نئی دہلی،پریس ریلیز،ہماراسماج:اردو اکادمی دہلی کے زیر اہتما م33واں چھ رزہ ڈراما فیسٹول 8 تا13 جنوری منڈی ہاؤس کے سری رام سینٹر میں جاری ہے ۔ پہلے دن مشہور مصنف و ہدایت کار گریش کرناڈ کا مشہو ر تاریخی ڈرامہ ’تغلق ‘ پیش کیا گیاجس کے ہدایت کار منداونے تھے اور اسے شری رام سینٹر پرفارمنگ آرٹ نے پیش کیا تھا ۔ دوسرے دن عشق کی مشہور داستان ’سوہنی مہیوال‘ اور تیسرے دن خدائے سخن میر تقی میر کی زندگی پر مبنی ڈراما ’انسان نکلتے ہیں‘ پیش کیا گیا ۔ ’سوہنی مہیوال ‘ کی ہدایت و تخلیق کار محترمہ کاجل سوری تھیںجسے روبرو تھیٹر گروپ نے پیش کیا ۔ ڈراما اپنے وقت پر شام ساڑھے چھ بجے شروع ہوا اور ڈیڑ ھ گھنٹے میں ختم ہوا ۔ سوہنی ماہیوال کے بارے میں سبھی اتنا جانتے ہیں کہ لیلیٰ مجنوں کی طرح یہ دونوں بھی عشق کے لازاول ہیرو ہیں ، جس کی مختصرسی کہانی یہ ہے کہ اٹھارہویں صدی میں سوہنی ایک کمہار خاندان میں پیدا ہوتی ہیں جب کہ مہیوال کا تعلق بخارا شہر کے سوداگر گھرانے سے تھا اور اس کا نام عزت بیگ ہوتا ہے ۔ وہ جب گجرات پنجاب میں تجارت کے لیے آتا ہے تو سوہنی پر نظر پڑتے ہی دونوں پہلی ہی نظر میں ایک دوسرے کی عشق میں گرفتار ہوجاتے ہیں اور عزت بیگ اپنا سارا سرمایہ سوہنی کے مٹی کے برتنوں میں صرف کرکے قلاش ہو جاتا ہے ، قافلہ واپس ہوجاتا ہے لیکن وہ نہیں جاتا ہے اور سوہنی کے گھر ہی ملازم ہوجاتا ہے جہاں اسے بھینسوں کے دیکھ بھال کی ذمہ داری ملتی ہے اور پنجاب میں اس پیشہ کو مہیوال کے نام سے جانا جاتا ہے تو عزت بیگ مہیوال ہوگئے ۔ سو ہنی کی شادی کہیں اورہوجاتی ہے لیکن عشق میں مہیوال کے ہی گرفتار رہتی ہے اورروز رات کو دریائے چناب پارکرکے ملنے جاتی ہے۔ ایک دن دونوں اسی دریا میں ڈوب گئے اور عشق کی داستان امر ہوگئی ۔ اس مختصر سی کہانی کو ڈیڑھ گھنٹے میں بہت ہی خوبصورت انداز میں پیش کیا ، جس میں صوفی فقیروں کے ذریعہ کہانی سنانا ، ڈراما میں پیش کرنا ، جذبات کی عکاسی کے لیے پنجابی لوک گیت پر رقص سبھی شامل تھا ۔’انسان نکلتے ہیں ‘ میر تقی میر کی زندگی پر مبنی ڈراما تھا، جس کے ہدایت کار گور و شاہ اور تخلیق کار ڈاکٹر رضوان الحق ہیں جسے ٹائسا فاؤنڈیش نے پیش کیا ۔ ڈراما میر تقی میر کی لکھنؤ کی زندگی کی عکاسی سے شروع ہوتا ہے اس کے بعد میر کی مظہر جان جاناں کے گھر میں قیام کی عکاسی ہوتی ہے جس میں میر کی عشقیہ زندگی کے ساتھ ساتھ ابتدائی شاعری کوبھی پیش کیا گیا ۔ اس کے بعد دلی کی سیاسی صورت حال کے ساتھ میر کے قیام دہلی کی مشکل حالات کو پیش کیا گیا ۔ شروع سے آخر تک حالات و واقعات کی مناسبت سے میر کے اشعار کو تخلیق کار نے جس طرح پیش کیا ناظرین ہر منظر میں تالی بجائے بغیر نہیں رہ سکے ۔ اشعار کی عمدہ قرأت اور خوبصورت انداز تکلم کے لیے حاضرین نے اردو ڈکشن وپوئٹری کے لییفہد خاں کی خوب سراہنا کی ۔ یہ ڈراما تقریبا ً سواگھنٹے کا تھا ۔ آخر میں ہدایت کاروں کا استقبال اردو اکادمی کے اکاؤنٹ آفیسر کلبھوشن یادو نے گلدستہ پیش کرکے کیا ۔بالترتیب نظامت کی ذمہ داری محترمہ ریشمہ فاروقی اور ڈاکٹر فرمان چودھری نے بخوبی اداکی ۔ناظرین میں ڈرما نگار و ناقد پرو فیسر محمد کاظم ،ڈاکٹر سلمان فیصل، ڈاکٹر تفسیر حسین ، مامون عبدالعزیز ، بابوعلی اثر اور طلبہ کے علاوہ ڈرامہ کے شائقین سے پورا ہال بھرا ہوا تھا ۔












