واشنگٹن(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اگر ضرورت پیش آئی تو وہ ایران کی جوہری تنصیبات پر بار بار حملے کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں سے ایران کے جوہری مقامات تباہ ہو چکے ہیں۔ٹرمپ کی یہ دھمکی ایسے وقت سامنے آئی جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی چینل فوکس نیوز سے گفتگو میں تسلیم کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام فی الحال رک چکا ہے، کیونکہ وہ اسرائیلی اور امریکی بم باری کے نتیجے میں "شدید نقصان” کا شکار ہوا ہے۔ تاہم عراقچی نے واضح کیا کہ ایران یورینیم کی افزودگی سے دست بردار نہیں ہو گا اور وہ فی الحال امریکہ کے ساتھ جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع کرنے کو تیار نہیں۔ٹرمپ نے آج منگل کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر لکھا وزیر خارجہ عباس عراقچی ایرانی جوہری تنصیبات کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ ‘نقصان شدید ہے، سب کچھ تباہ ہو چکا ہے’… یہی میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، اور اگر ضرورت پڑی تو ہم دوبارہ ایسا کریں گے۔ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی جوہری پروگرام کو "شدید نقصان” پہنچا ہے، اور ان میڈیا اداروں کو معافی مانگنی چاہیے جنھوں نے امریکی حملوں کی شدت پر سوالات اٹھائے۔گزشتہ ماہ21 جون کو، امریکی فضائیہ نے B-2 بم بار طیاروں کے ذریعے اصفہان، نطنز اور فردو میں واقع ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ ان میں فردو کا وہ مقام بھی شامل تھا جو پہاڑ کے اندر، نصف میل گہرائی میں واقع ہے۔تاہم ان حملوں سے ہونے والے نقصان کے اندازے کے حوالے سے صدر ٹرمپ اور دیگر حکام کے بیانات میں اختلاف نظر آیا۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل” پر کہا کہ یہ حملے "ایرانی جوہری تنصیبات کو صفحہ ہستی سے مٹا چکے ہیں” اور سب سے بڑا نقصان زمین کے نیچے ہوا ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگزیتھ نے کہا کہ بموں کا اثر "اب بھی ملبے کے نیچے دفن ہے” اور جو لوگ اس مشن کی کامیابی پر شک کر رہے ہیں، وہ دراصل صدر کو کمزور دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ادھر سی آئی اے کے ڈائریکٹر جون ریٹکلف نے تصدیق کی کہ ان حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو شدید نقصان” پہنچایا۔ اْنھوں نے بتایا کہ اس آپریشن میں 18 گھنٹوں کے دوران "بنکر بسٹر” قسم کے 14 بھاری بم گرائے گئے۔اسرائیلی جوہری توانائی ادارے کا کہنا ہے کہ فردو کا جوہری مقام اب "ناقابلِ استعمال” ہو چکا ہے، اور ان حملوں نے ایرانی جوہری پروگرام کو "چند برسوں کے لیے” روک دیا ہے۔امریکی اور اسرائیلی حکام نے اس پر اتفاق کیا کہ ایران جوہری حملوں سے قبل اپنا افزودہ یورینیم منتقل نہیں کر سکا، اور نطنز اور فردو میں واقع سینٹری فیوجز کو ایسا نقصان پہنچا ہے جس کی مرمت ممکن نہیں۔بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر رافائل گروسی نے بھی ان حملوں سے ہونے والے نقصان کو "انتہائی شدید” قرار دیا، اور کہا کہ ایران کے لیے اب پہلے جیسی رفتار سے جوہری پروگرام کو جاری رکھنا بہت مشکل ہو گا۔واضح رہے کہ امریکی حملوں سے پہلے اسرائیلی کارروائیوں میں ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں اور کم از کم 14 جوہری سائنس دانوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔












