الامارات:اعلیٰ امریکی سفارت کار مارکو روبیو ریاض میں روسی حکام کے ساتھ مذاکرات کے بعد شرقِ اوسط کے اولین دورے کے آخری مرحلے میں بدھ کو متحدہ عرب امارات پہنچ گئے۔
صبح ابوظہبی پہنچنے کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ کی متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان اور وزیرِ خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان سے ملاقاتیں طے شدہ ہیں۔
منگل کے روز روبیو نے سعودی دارالحکومت میں وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کی سربراہی میں روسی حکام کے ساتھ غیر معمولی مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کی۔
ان میں یوکرین کی جنگ کے خاتمے کی کوششوں سمیت متعدد امور کا احاطہ کیا گیا۔
روبیو کا دورۂ متحدہ عرب امارات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ غزہ تجویز پیش کرنے کے بعد ہوا ہے۔
تباہ شدہ فلسطینی سرزمین پر مستقبل میں حماس کے کسی بھی کردار کو مسترد کرنے والی ٹرمپ انتظامیہ نے عرب ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی صدر کے منصوبے کے متبادل تجویز کریں۔ عرب ممالک غزہ میں فلسطینیوں کی نقلِ مکانی کے سخت خلاف ہیں۔
ٹرمپ نے جنگ زدہ غزہ کو امریکی کنٹرول میں دے دینے اور اس کے 2.4 ملین باشندوں کو خاص طور پر ہمسایہ ممالک اردن اور مصر منتقل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ایک بیان کے مطابق پیر کو سعودی عرب میں روبیو نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات میں "غزہ کے لیے ایک ایسے انتظام کی اہمیت پر زور دیا جو علاقائی سلامتی میں معاون ہو۔”
اتوار کے روز یروشلم میں اپنے پہلے قیام کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو سے غیر متزلزل امریکی حمایت کا اظہار کیا جس سے اسرائیل کو آگے بڑھنے کے لیے مثبت اشارہ مل گیا ہے کہ وہ غزہ کے حوالے سے کیا فیصلہ کرتا ہے جہاں 19 جنوری سے ایک نازک جنگ بندی نافذ ہے۔












