بھاگلپور (قمر امان) ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر نول کشور چودھری اور وریہ پولیس ادھیکش پرمود کمار یادو کی مشترکہ صدارت میں بھاگلپور-نوگچھیا کے درمیان قائم متبادل آمد و رفت کے نظام کو مزید آسان، محفوظ اور مؤثر بنانے کے مقصد سے ایک اہم جائزہ نشست منعقد ہوئ۔نشست میں مختلف محکموں کے افسران، پولیس حکام اور متعلقہ ایجنسیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔نشست کے دوران ضلع مجسٹریٹ نے ایس پی سنگلا کمپنی کے نمائندوں کو ہدایت دی کہ دونوں جانب واقع گھاٹوں تک پہنچنے والے راستوں کو فوری طور پر ہموار،مضبوط اور آمد و رفت کے لیے سہل بنایا جائے تاکہ عام شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر، کسان، سرکاری ملازمین،افسران اور دیگر عام لوگ براری گھاٹ سے مہادیوپور گھاٹ تک اسی متبادل راستے کا استعمال کریں گے، اس لیے اس راستے کو ہر لحاظ سے بہتر بنانا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ضلع مجسٹریٹ نے موٹر بوٹوں کے سلسلے میں بھی اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے متعلقہ مجسٹریٹ کو حکم دیا کہ دو منزلہ موٹر بوٹ کے اوپری حصے پر مسافروں کو بیٹھنے کی اجازت نہ دی جائے۔اوپری حصے میں صرف ڈرائیور اور عملے کے افراد ہی موجود رہیں گے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔ شہری سہولیات کے تعلق سے نگر نگم کو ہدایت دی گئی کہ گھاٹوں پر روزانہ کم از کم تین مرتبہ صفائی مہم چلائی جائے۔ساتھ ہی چھوٹے دکانداروں اور ٹھیلہ فروشوں کو اپنی دکانوں کے قریب ڈسٹ بن رکھنے کی پابندی کرنے کا حکم دیا گیا۔مہادیوپور گھاٹ پر مسافروں کی سہولت کے لیے اضافی ٹینٹ لگانے کی بھی ہدایت دی گئی۔نشست میں فیصلہ لیا گیا کہ ایس ڈی آر ایف کی ٹیم مجسٹریٹ اور پولیس فورس کے ساتھ مسلسل آبی راستے میں گشت کرتی رہے گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔گھاٹوں پر تعینات مجسٹریٹ اور پولیس اہلکاروں کو بیج لگا کر ڈیوٹی انجام دینے کی ہدایت دی گئی تاکہ عوام انہیں آسانی سے شناخت کر سکیں۔کروز سے مسافروں کے اترنے کے دوران بڑھتی بھیڑ کو قابو میں رکھنے کے لیے اضافی پولیس فورس اور “آپدا متر” کی خدمات لینے کا فیصلہ کیا گیا۔انتظامیہ نے خاص طور پر صبح اور شام کے اوقات میں اضافی چوکسی برتنے پر زور دیا کیونکہ انہی اوقات میں مسافروں کی سب سے زیادہ بھیڑ دیکھی جا رہی ہے۔ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ وکرم شِلا پل پر فوری متبادل انتظام کے طور پر تقریباً ساڑھے تین میٹر چوڑا اسکافولڈنگ برج جلد تیار کر لیا جائے گا۔اس برج کے استعمال کے دوران ٹریفک کو مرحلہ وار کنٹرول کیا جائے گا، یعنی ایک سمت سے گاڑیوں کی آمد و رفت کے دوران دوسری سمت کی گاڑیوں کو روک دیا جائے گا۔انہوں نے متعلقہ افسران کو اس انتظام کے لیے ذہنی اور انتظامی طور پر تیار رہنے کی ہدایت دی۔نشست میں یہ بھی بتایا گیا کہ کہلگاؤں سے تین ٹنگا گوپالپور آبی راستے کے ذریعے ٹرکوں اور چھوٹی گاڑیوں کی آمد و رفت شروع کرائی جائے گی۔اس سلسلے میں نوگچھیا کے سب ڈویژنل افسر اور سب ڈویژنل پولیس افسر کو تین ٹنگا سے قومی شاہراہ تک راستے کا معائنہ کر مناسب متبادل سڑک تجویز کرنے کی ہدایت دی گئی۔ضرورت پڑنے پر اس راستے کی فوری تعمیر و مرمت بھی کرائی جائے گی۔ایس پی سنگلا کمپنی کو مزید محفوظ گھاٹ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ وہیں بھاگلپور-سلطان گنج-مونگیر روٹ پر ٹریفک جام کی صورتحال پیدا نہ ہو،اس کے لیے صدر سب ڈویژنل افسر، این ایچ اے آئی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر اور موٹر وہیکل انسپکٹر کو فور لین سڑک کا معائنہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ اگر کہیں بجلی کے تار اونچی گاڑیوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ بن رہے ہوں تو انہیں فوری طور پر ہٹایا جائے یا اونچا کیا جائے۔ تمام رکاوٹیں دو دنوں کے اندر ختم کرنے کی ہدایت دی گئی۔نوگچھیا کے پولیس سپرنٹنڈنٹ راجیش کمار نے کشتی چلانے والوں کو خصوصی تربیت دینے کی تجویز پیش کی تاکہ آبی سفر کو مزید محفوظ بنایا جا سکے۔ گھاٹوں پر تعینات مجسٹریٹوں کے لیے بیج دستیاب کرانے کی ذمہ داری صدر سب ڈویژنل افسر بھاگلپور کو دی گئی۔وریہ پولیس ادھیکش پرمود کمار یادو نے کہا کہ گھاٹوں پر موجود تمام انتظامی اور پولیس افسران آپسی تال میل اور ٹیم جذبے کے ساتھ کام کریں تاکہ مسافروں کو کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے براری تھانہ اور زیرو مائل تھانہ کے انچارجوں کو صبح و شام خصوصی نگرانی رکھنے کی ہدایت دی۔ضلع مجسٹریٹ نے مہادیوپور گھاٹ سے جاہنوی چوک تک اور براری گھاٹ سے بھاگلپور شہر کے مختلف علاقوں تک چلنے والے ٹوٹو اور آٹو رکشہ کے کرایے مقرر کرنے کی ہدایت بھی متعلقہ افسران کو دی تاکہ مسافروں سے من مانی وصولی نہ ہو سکے۔نشست میں نگر آیوکت کسلے کشواہا، اپر سماہرتا راکیش کمار رنجن، اپر سماہرتا کندن کمار، جوائنٹ ڈائریکٹر محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ سمیت دیگر متعلقہ افسران موجود تھے۔












