واشنگٹن:بعد از جنگ دس لاکھ فلسطینیوں کو نکالے جانے کی اپنی تجویز پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اردن اور مصر کو غزہ سے نکالے گئے فلسطینیوں کو اپنے ہاں بسانا ہوگا۔ صدر ٹرمپ کا یہ اصرار جمعرات کے روز اس کے باوجود سامنے آیا ہے کہ دونوں ملکوں نے فلسطینیوں کو غزہ سے نکال کر اپنے ہاں بسانے سے انکار کر دیا ہے۔
اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور مصر کے صدر الفتاح السیسی واضح اور دوٹوک انداز میں کہہ چکے ہیں کہ غزہ سے فلسطینی عوام کا جبری انخلا قبول نہیں کیا جائے گا۔ لیکن صدر ٹرمپ نے بھی اپنے مخصوص انداز میں واضح کر دیا ہے کہ وہ ایسا کریں گے۔
یہ بات امریکی صدر نے جمعرات کے روز اوول آفس میں رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔ ان سے رپورٹرز نے کہا تھا کہ مصر اور اردن نے تو غزہ کے عوام کو اپنے ہاں بسانے سے انکار کر دیا ہے ، کیا اب انہیں دباؤ میں لانے کے لیے ان ملکوں کے لیے اپنے ہاں ‘ ٹیرف ‘ کا حربہ استعمال کیا جائے گا؟
جواب میں صدر ٹرمپ نے بے ساختہ کہا ‘ وہ ایسا کرنے جارہے ہیں، کیونکہ ہم نے بھی ان ملکوں کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔ اب وہ بھی ہمارے لیے یہ کریں گے۔
چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ’’فلسطینیوں کو غزہ سے مصر یا اردن منتقل کرنے‘‘ کا خیال بہ ظاہر محض زبان کا پھسلنا نہیں تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ اندر خانہ اس حوالے سے منصوبہ بنا چکے ہیں۔
گذشتہ جمعرات کی شام وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے ساتھ بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ قاہرہ اور عمان دونوں ممالک کے فیصلہ کن انکار کے باوجود وہ تباہ شدہ غزہ کے لوگوں کو وصول کرنا قبول کریں گے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس خیال پر امریکی انتظامیہ اور اسرائیل کے درمیان شاید حال ہی میں بات ہوئی تھی۔
ٹرمپ کے بیانات کی بازگشت سے قبل ان کے داماد جیرڈ کشنر نے گزشتہ سال فروری میں ایسا ہی ایک بیان دیا تھا۔انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ اگر غزہ کی پٹی کو شہریوں سے خالی کر دیا گیا تو غزہ میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے کیونکہ اس کا محل وقوع اس کے طویل سمندری پٹی بہت دلکش ہے۔
جب کہ ایک اسرائیلی سیاسی ذریعے نے دو روز قبل اس بات کی تصدیق کی تھی کہ امریکی صدر کے بیانات محض زبان کا پھسلنا نہیں ہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہیں جس پر وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ میں سنجیدگی سے بحث ہو رہی ہے۔ اسرائیل کے چینل 12 کے سیاسی مبصر امیت سیگل جن کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر اور دائیں بازو کے دیگر عہدیداروں سے قریبی تعلقات ہیں نے کہا کہ سینئر اسرائیلی حکام نے ان کے خیالات کے بارے میں معلومات کی تصدیق کی۔ ان عہدیداروں نے کہا کہ "غزہ سے لوگوں کی منتقلی کا منصوبہ ہے۔ ہم انہیں عارضی یا مستقل طورپر اردن اور مصر منتقل کرسکتے ہیں‘‘۔
امریکی صدر کے مشرق وسطیٰ کے لیے نمائندے سٹیو وٹکوف نے اپنے پہلے باضابطہ دورے کے دوران پہلے مرحلے پر اسرائیل میں نیتن یاہو اور دیگر سے ملاقاتیں کرنے کے علاوہ غزہ کے بعض علاقوں کا بھی معائنہ کیا ہے۔ ان کے اس دورے میں اسرائیلی قیادت کے ساتھ ٹرمپ کے اس نئے منصوبے ‘ غزہ کی صفائی ‘ پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی ہے۔ ان کے دورے کے دوسرے مرحلے میں سعودی عرب کو شامل کیا گیا۔












