سلمی راضی
اڑائی منڈی، پونچھ
جموں
جموں کشمیر جس کو بلکل ہی سرے سے تبدیل کر اس کے مکینوں کو اب مرکز کے زیر انتظام لے لیاگیا ہے۔ اب جو حکم اور جو پلان مرکز کا ہوگاوہی جموں وکشمیر کے دیہی اورپسماندہ علاقوں میں لاگو ہوگا۔ مرکزی زیر انتظام جموں وکشمیر میں محکمہ صحت عامہ یعنی پی ایچ ای کا نام بدل کر اب جل شکتی رکھ دیاگیا۔ زمینی سطح پر اس محکمہ کا کام منفی صفر میں جارہا ہے تاہم نام کا چرچہ آسمان پر گھونج رہاہے۔محکمہ کا کام زمین پر سے ذیادہ کاغذوں میں نظر آتا ہے۔اس کی ایک مثال ضلع پونچھ سے قریب 22کلومیٹر دور تحصیل منڈی کے دھڑہ فتح پورکی متعدد پنچاتیں ہیں۔ جہاں کروڑوں روپہ کی لاگت سے لگائی گئی لیفٹ اسکیم دھرم بھرم ہوچکی ہے۔اس کی وجہ سے عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہی ہے۔دوسری جانب محکمہ جل شکتی اپنی کاغذی شکتی کو بڑ ھانے میں مصروف ہے۔یہاں کے ایک مقامی باشندہ اور سماجی کارکن مولوی منظور احمد اشاعتی جن کی عمر 41سال ہے، انہوں نے علاقہ کی حالت زار پر کہاکہ دھڑہ اے، دھڑہ بی فتح پور موربن میں پانی کی زبردست قلت ہے،عوام پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہی ہے۔جبکہ لیفٹ سکیم پرقریب پچیس کروڑ تک کی کثیر رقم صرف کی گئی ہے۔ لفٹ سکیم کی خستہ حالت اور محکمہ جل شکتی کے افسران اور لائین مینوں کی لاپرواہی سے اب عوام تنگ آچکی ہے۔
لیفٹ سکیم کے اول د
وم اور سوم مرحلہ وار ٹنکوں میں پوری طرح پانی چڑھانے میں محکمہ ناکام ہوچکا ہے۔ یہاں کی عوام تک پانی کی سپلائی مہیاء کرنے سے اپنے اپ کو بچاکر صرف بائیو میٹرک کی فکر میں مصروف ہوچکے ہیں۔یہاں تک کہ یہاں سرکاری سکولوں میں پانی کا فقدان ہے۔پانی کی کمی کی وجہ سے اسکول کے بیت الخلاء بند پڑے ہیں۔بچے کھلے عام قضاے حاجت پر مجبور ہیں۔سب سے زیادہ مشکل لڑکیوں کو ہو رہی ہے۔ اس کی وجہ سے ان کی تعلیم پر منفی اثر پر رہا ہے۔میڈے میل کا کھانا پکانے تک کے لئے پانی میسر نہیں ہے۔مقامی حافظ عبد الحفیظ جن کی عمرقریب 38 سال ہے،ان کا کہناہے کہ یہ لفٹ سکیم 2008 میں مکمل ہوئی تب سے لیکر دو ٹنکوں میں ایک بار پانی چڑھایاگیاہے۔اس کے بعدسے آج تک نہ تو مقامی لوگوں نے پانی آتے دیکھا ہے اور نہ ہی لائین مین کہیں نظر آیا ہے۔ اب تو پائیپیں بھی تباہ و بربا د ہوچکی ہیں۔مقامی سماجی کارکن عبدالحفیظ کھٹانہ جن کی عمر 36 سال ہے اور محمد اسلم جو 45 سال کی عمر کے ہیں،نے کہاکہ پچیس کروڑ روپے کی لاگت سے یہاں دھڑہ اے،دھڑہ بی،فتح پوراور مور بن میں لیفٹ سکیم لگائی گئی تھی۔جس سے عوام بڑے مدت کے بعد خوشی تھی کہ اب یہاں پانی ملے گا۔ لیکن تاحال اس اسکیم کا صرف تیس گھروں کو ہی فایدہ پہونچ رہاہے، وہ بھی ہفتے میں ایک دن پانی ملتا ہے۔
وم اور سوم مرحلہ وار ٹنکوں میں پوری طرح پانی چڑھانے میں محکمہ ناکام ہوچکا ہے۔ یہاں کی عوام تک پانی کی سپلائی مہیاء کرنے سے اپنے اپ کو بچاکر صرف بائیو میٹرک کی فکر میں مصروف ہوچکے ہیں۔یہاں تک کہ یہاں سرکاری سکولوں میں پانی کا فقدان ہے۔پانی کی کمی کی وجہ سے اسکول کے بیت الخلاء بند پڑے ہیں۔بچے کھلے عام قضاے حاجت پر مجبور ہیں۔سب سے زیادہ مشکل لڑکیوں کو ہو رہی ہے۔ اس کی وجہ سے ان کی تعلیم پر منفی اثر پر رہا ہے۔میڈے میل کا کھانا پکانے تک کے لئے پانی میسر نہیں ہے۔مقامی حافظ عبد الحفیظ جن کی عمرقریب 38 سال ہے،ان کا کہناہے کہ یہ لفٹ سکیم 2008 میں مکمل ہوئی تب سے لیکر دو ٹنکوں میں ایک بار پانی چڑھایاگیاہے۔اس کے بعدسے آج تک نہ تو مقامی لوگوں نے پانی آتے دیکھا ہے اور نہ ہی لائین مین کہیں نظر آیا ہے۔ اب تو پائیپیں بھی تباہ و بربا د ہوچکی ہیں۔مقامی سماجی کارکن عبدالحفیظ کھٹانہ جن کی عمر 36 سال ہے اور محمد اسلم جو 45 سال کی عمر کے ہیں،نے کہاکہ پچیس کروڑ روپے کی لاگت سے یہاں دھڑہ اے،دھڑہ بی،فتح پوراور مور بن میں لیفٹ سکیم لگائی گئی تھی۔جس سے عوام بڑے مدت کے بعد خوشی تھی کہ اب یہاں پانی ملے گا۔ لیکن تاحال اس اسکیم کا صرف تیس گھروں کو ہی فایدہ پہونچ رہاہے، وہ بھی ہفتے میں ایک دن پانی ملتا ہے۔ دھڑہ پنچائیتوں اور موربن کے ٹاپ لیفٹ سکیم بہترین جگہ پر لگائی گئی۔لیکن لگاتے وقت ٹھکیداروں نے ایمانداری کا ثبوت نہیں دیا اور محکمہ کی ملی بھگت سے پائیپیں جگہ جگہ سے زمین کے اوپر ہی ڈال دی گئی۔ جو اب جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کر تباہ وبرباد ہوچکی ہیں۔لوگ لفافے،کپڑے،بوریاں باندھ باند کر پائیپو ں کے جوڑ باندے ہیں اور سیکٹوں اور ٹی کی جگہ پلاسٹک کی بوتلیں لگاکر گزارکیا جارہا ہے ۔سخت پریشانی سے دوچار یہ لوگ اب محکمہ اور انتظامہ کی توجہ مبذول کرانے کی خاطر بال بچوں سمیت سڑکوں پر اترنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔محلہ ٹھنڈی بنی،محلہ ڈھوٹہ،محلہ تھپلہ،محلہ کھیت،محلہ جابہ،محلہ گلکاراں بیل والی، روڑا والی،پنچائیت دھڑی بی موربن تک محلہ جات میں پانی کی شدید قلت ہے۔مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ جب وہ اپنی شکایات لیکر محکمہ کے اعلی افیسران کے پاس جاتے ہیں تووہاں سے ٹال مٹول کردیتے ہیں۔ کئی بار تووہاں کے ملازمین ان سے بے رخی سے بھی پیش آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چلے جائیں جہاں سے ملتالے لیں۔ ستم ظریفی یہ کہ یہاں کے مقامی دیہاڑی دار لائین مین دوسری پنچائیتوں میں ڈال دیے ہیں اور یہاں پنچائیت میں گلی پنڈی وغیرہ سے ایک یا دو لائین مین تعینات ہیں۔جوکبھی کبھی یہاں ٓآتے ہیں۔لائین مین بھی عوام کی سادگی اور شرافت کو دیکھتے ہوے لاپرواہی سے کام لیتے ہیں۔ کبھی بھی اپنی ڈیوٹی پر حاضری نہیں دیتے ہیں اور جب حاضر ہوتے بھی ہیں تو پانی کی پائپوں کو ہاتھ تک نہیں لگاتے ہیں۔عوام چاہے مشکل میں رہے یا کہ راحت میں رہے انہیں کوئی سروکار نہیں ہے۔اس بات سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ جہاں عوام خود پانی کے لئے ترس رہی ہوگی وہاں ان کے مویشیوں کی کیا حالت ہوتی ہوگی؟ جب وہ خود اپنے لیے پانی کا مکمل انتظام نہیں کر پاتے ہونگے تو اپنے مویشیوں کے لیے کہاں سے کر پاتے ہونگے؟
پانی کی قلت سے سب سے ذیادہ متاثر خواتین ہو رہی ہیں۔جنہیں دوردور سے پانی جاکر لانا پڑ رہا ہے۔ اس حوالے سے انچارج سپر وائیز اسحاق احمد سے بات کی گئی تو ان کا کہناتھاکہ اس میں دو الگ الگ شاخیں کام کرتی ہیں۔ مکینکل جو پانی ساتھرہ کنال بیس کمپ سے چڑھاتے ہیں اور یہاں سیول والے اس کو اگے سپلائی کرتے ہیں۔ یہاں مکینکل والے ہفتے میں دو دن پانی چھوڑتے ہیں۔ جس کو ایک دن فتح پور میں اور ایک دن دھڑہ میں سٹور کیاجاتاہے۔ جہاں دھڑہ میں ایک بیس تک ہی پانی پہونچتاہے۔ آگے بیس دو اور بیس تین تک پانی نہیں جاتاہے۔ مکینکل والے ہفتہ میں صرف دو دن ہی پانی چھوڑتے ہیں۔ جس سے دھڑہ میں ایک بیس لیفٹ سکیم سے پچیس تیس گھر ہی استفادہ حاصل کرسکتے ہیں۔لیفٹ سکیم بلکل ٹھیک ہے۔ موٹر بجلی ٹرانسفارمر وغیرہ تمام کام مکمل ہیں۔ لیکن مکینکل والے پانی نہیں چڑھارہے ہیں۔جس کی وجہ سے ہم بھی پریشان ہیں۔ اس حوالے سے جب محکمہ جل شکتی کے جونیر انجینئر جمیل رضا سے بات کی گئی تو ان کاکہناتھاکہ علاقہ دھڑہ فتح پور میں لگی لیفٹ سکیم اچھی طرح لگی ہوئی ہے۔ ایک وال کی ضرورت تھی۔وہ سپروائیز کے حوالے کردیاگیاہے۔ مکینکل جونئیر انجینیر سے اس سارے معاملہ پر بات ہوئی ہے اور کچھ سامان کی ضرورت ہے۔وہ بھی جلد فراہم کیاجایگا۔ ان کے مطابق چند دنوں میں ہی یہ سامان لگاکر اس کو مکمل کردیاجایگا اور عوام کی مانگ کے مطابق ہر روز پانی چڑھایابھی جایاکریگا۔
البتہ بجلی کا بحران ایک بڑامعاملہ بنارہتاہے۔اس حوالے سے سپر وائیز اسحاق احمد نے بتایاکہ کم سے کم بھی ایک ماہ کا وقت اس قضیہ کو ٹھیک کرنے میں لگ سکتاہے۔سوال یہ ہے کہ آخر14 سال سے یہاں کی عوام کو تکلیف دینے کا کون زمہ دار ہے؟ اتنی کثیر تعداد رقم سے تعمیر اس لیفٹ سکیم کو لگانے اور عوام کو پانی کے لئے ترسانے کا کون زمہ دار ہوگا؟ اور اب اس مشنری کے زنگ الودہ پرزوں کا تبادلہ کیسے ممکن ہوگا؟ اب بھی وقت ہے کہ لفٹنٹ گورنر انتظامیہ اس لیفٹ سکیم فیضیاب ہونے کی توقعات رکھنے والی عوام کے ساتھ انصاف کا معاملہ کریں۔ ورنہ جہاں پانی پانی کرتی عوام ہو وہاں جانور بھی تو پیاسے ہونگے۔ (چرخہ فیچرس)












