دہلی میں ہونے والے میونسپل کارپوریشن کے انتخاب میں کل 250حلقوں میں 134سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنے والی عاپ نے نہایت خوبی سے بی جے پی کو نہایت پامردی سے شکست دے کر اپنے دعوؤں کی دلیل پیش کردی کہ دہلی کے لوگ عاپ کی کارکردگی پر اعتماد کرتے ہیں۔آج مئیر ڈپٹی مئیر اور سٹینڈنگ کمیٹی کےلئے پرچہ نامزدگی کا آخری دن ہے۔اور امید کی جانی چاہئے کہ آپ کی مئیر ہی کامیاب ہونگی،جبکہ ڈپٹی مئیر آل محمد اقبال منتخب ہوںگے۔دو روز پہلے تک یہ اندازہ لگایا جارہا تھا کہ بی جے پی اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے اپوزیشن میں بیٹھنے کے آداب سیکھے گی لیکن سوموار کو یکایک دہلی بی جے پی کے ورکنگ صدر ویریندر سچدیوا نے یہ اعلان کیا کہ بی جے پی تمام عہدوں کے لئے اپنے نمائندے اتارے گی اور 27دسمبر کو ان کے لوگ پرچہ نامزدگی داخل کریںگے۔
یعنی بی جے پی ابھی تک اپنے اس جملے کو بھولی نہیں ہے جو ان کے اکٹر لیڈران نے ریزلٹ کے دن کہا تھا کہ کوئی بھی پارٹی جیتے لیکن مئیر ہمارا ہی ہوگا۔بی جے پی کی طرف سے ایسے بیان کے آتے ہی عوام کی یاد داشتوں میں ماضی کے انتخابات کے دوران بی جے پی کے بیانات رقص کرنے لگتے ہیں اور پھر یہ فلمی ڈائیلاگ بھی کہ بی جے پی جہاں کامیاب ہوتی ہے وہاں تو سرکار بناتی ہی ہے لیکن جہاں کامیاب نہیں ہوتی وہاں سرکار ضرور بناتی ہے۔
الیکٹورل سسٹم میں جدید تکنیک کے آجانے سے یعنی بیلٹ کی جگہ ای وی ایم مشین کے استعمال کے بعد سے نتائج پر شکوک وشبہات کے بادل منڈلانے لگے ہیں اور ہر انتخاب کے بعد ای وی ایم بدلے جانے یا اس کے مدر بورڈ میں تبدیلی کا الزام بھی لگایا جاتا ہے لیکن الیکشن کمیشن نے کبھی بھی ان الزامات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔لیکن جب انتخابی نتائج سے قبل بی جے پی اس طرح کے بیان دیتی ہے تو شک ہوتا ہے کہ کسی جیوتشی کی طرح بی جے پی کے قائدین ایسے بیان کیوں دیتے ہیں جو لوگوں کو شک میں مبتلا کرے۔بی جے پی نے ایم ایل اے اور ایم پی کی خرید فروخت کی جو بنا ڈالی ہے اور جس طرح کئی ریاستوں کی سرکار کو گرا کر اپنی سرکار بنائی ہے اس سے بھی شکوک و شبہات سر اٹھاتے ہیں۔ موجودہ مئیر کے انتخاب کے پہلے بھی یہ باتیں موضوع بحث رہی ہیں اور اب جب بی جے پی نے تمام عہدوں پر اپنے نمائندوں کا ارلان کر دیا ہے تو یہ خبریں پھر گشت کرنے لگی ہیں کہ کہیں عاپ کے انتخابی نشان سے جیتے امید وار عین وقت پر بساط پلٹ نہ دیں۔کیونکہ بی جے پی کے پاس نہ تو پیسے کی کمی ہے اور نہ ہی وسائل کی۔ویسے بھی دل بدل قانون کا اطلاق کارپوریشن کے انتخاب میں ہوتا نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دہلی کے عام لوگ سانس روک کر 6جنوری کاانتظار کر رہے ہیں کہ آیا مئیر عاپ کی امید وار بنتی ہیں یا پھر ایک بار بی جے پی اپنے سابقہ روایت کو دہراتی ہے۔
عاپ کے سپریمو اور دہلی کے وزیر اعلی نے اپنے نمائندے کے انتخاب میں بھی بہت احتیاط برتی ہے۔اور جہاں مئیر کی نمائندگی کے لئے نہایت تعلیم یافتہ خاتون کو پیش کیا ہے وہیں ڈپٹی میئر کے لئے ایک مسلم امیدوار کو پیش کر کے دہلی کے مسلمانوں کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ انہیں عاپ سے مایوس ہوکر کانگریس کی طرف رخ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔کجریوال کو ان کے جذبات احساسات کا بخوبی احساس ہے اور وہ ہرطبقہ کا خیال رکھنے والے قائد ہیں۔












