دارا سنگھ چوہان ، اوم پرکاش راج بھر ، انیل کمار اور سنیل شرما بنائے گئے نئے وزیر ، جینت چودھری کی پارٹی آر ایل ڈی کوٹے سے بھی ایک وزیر بنایا گیا ، عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کی تیاری
عام انتخابات سے قبل یوگی کابینہ میں توسیع
وزیر اعلی سمیت وزرا کی تعداداب 56؍ہو گئی
کل سیٹوں میں سے 15؍فیصد بن سکتے ہیں وزیر
اتر پردیش میں کل اسمبلی سیٹ 403؍ہوتی ہیں
سی ایم یوگی اور راج بھر میں ہوا تھا شدید ٹکرائو
نئی دہلی :عام انتخابات 2024؍میں اس مرتبہ بی جے پی نے 400؍سے زیادہ سیٹیں جیتنے کا نعرہ دیا ہے ۔ ’’اب کی بار چار سو پار ‘‘نعرہ دینے کے بعد بی جے پی اس نشانہ تک پہنچنے کے لیے جی جان سے لگ گئی ہے اور اس کی گھبراہٹ بھی صاف صاف دیکھی جا سکتی ہے ۔ اتر پردیش جو ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے جہاں سے 80؍سیٹیں آتی ہیں سب سے زیادہ نظر اسی صوبہ پر ہے چنانچہ یہاں راشٹریہ لوک دل اور راج بھر کی پارٹی کو شامل کر لیا ہے ۔حالانکہ یہ علاقائی پارٹیاں ہیں تاہم بی جے پی کسی بھی طرح کی چوک نہیں کرنا چاہتی ۔ یوگی کابینہ میں توسیع عمل میں آئی جس میں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے نا چاہتے ہوئے بھی کابینہ میں او پی راج بھر کو شامل کیا گیا اور یہ دبائو مرکز کا تھا جو اب میڈیا کے ذریعہ طشت از بام ہے۔ لوک سبھا انتخابات سے پہلے بی جے پی نے اپنے اتحادیوں کو انتخابی تحفہ دیا ہے۔ منگل کو یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ کابینہ کے چار نئے وزراء دارا سنگھ چوہان، اوم پرکاش راج بھر، انیل کمار اور سنیل کمار شرما نے حلف لیا۔ کابینہ میں توسیع کے بعد یوپی میں وزیر اعلیٰ سمیت وزراء کی تعداد 56 ہو گئی ہے۔ اب کابینہ میں صرف پانچ سیٹیں خالی ہیں۔ قاعدے کے مطابق کسی بھی ریاست میں اسمبلی ممبران کی کل تعداد کا 15 فیصد وزیر بنایا جا سکتا ہے۔ اتر پردیش اسمبلی میں 404 ارکان ہیں۔ اس کے مطابق یوپی میں 61 وزیر بنائے جا سکتے ہیں۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ یوپی اسمبلی میں 403 ممبران انتخابات کے ذریعے ایوان میں آتے ہیں جبکہ ایک ممبر کو گورنر نامزد کرتا ہے۔اوم پرکاش راج بھر سبھا ایس پی کے سربراہ اور ظہور آباد سے ایم ایل اے ہیں۔ بی ایس پی سے الگ ہونے کے بعد انہوں نے اپنی پارٹی بنائی۔ انہوں نے 2017 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے ساتھ مقابلہ کیا اور بعد میں یوگی حکومت میں وزیر بنے۔ یوگی آدتیہ ناتھ سے تصادم کے بعد انہیں کابینہ سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد راج بھر ایس پی میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے 2022 کے انتخابات میں اکھلیش کی حمایت کی لیکن انتخابات کے بعد دونوں الگ ہو گئے، جس کے بعد راج بھر دوبارہ بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ لوک سبھا انتخابات سے پہلے بی جے پی راج بھر کو وزیر بنا کر پوروانچل کی سیٹوں پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کرے گی۔راج بھر کی طرح دارا سنگھ چوہان نے بھی اپنی سیاست کی شروعات بی ایس پی سے کی تھی۔ بعد میں وہ بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ وہ 2022 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے ہی ایس پی میں شامل ہو گئے تھے۔ وہ مئو کی گھوسی سیٹ سے جیت گئے۔ تاہم انتخابات کے بعد ایس پی کے ساتھ ان کے تعلقات خراب ہوگئے۔ اس کے بعد انہوں نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی اور مقننہ سے بھی استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد ہوئے ضمنی انتخاب میں وہ ایس پی سے الیکشن ہار گئے۔ بی جے پی نے انہیں قانون ساز کونسل میں بھیجا۔ اب لوک سبھا انتخابات سے پہلے انہیں وزیر بنایا گیا ہے تاکہ چوہان کے ووٹوں کو مضبوط کیا جاسکے۔انیل کمار سہارنپور کا رہنے والا ہے۔ وہ مظفر نگر کی پرقاضی سیٹ سے آر ایل ڈی کے ایم ایل اے ہیں۔ سال 2022 میں وہ ایس پی میں تھے لیکن آر ایل ڈی کے نشان پر الیکشن لڑا تھا۔ راج بھر اور دارا سنگھ کی طرح انیل کمار بھی پہلے بی ایس پی میں تھے۔ درج فہرست ذات کے ووٹوں کو راغب کرنے کے لیے آر ایل ڈی نے انیل کمار کو وزیر بنانے کی پیشکش کی۔ اب انہوں نے یوگی حکومت میں وزیر کے طور پر حلف لیا ہے۔ انیل کمار کو جینت چودھری کا قریبی سمجھا جاتا ہے۔سنیل شرما صاحب آباد سے بی جے پی کے ایم ایل اے ہیں۔ وہ تین بار ایم ایل اے رہ چکے ہیں۔ شرما کا شمار ریاست کے بڑے برہمن لیڈروں میں ہوتا ہے۔ یوگی کے علاوہ وہ راج ناتھ سنگھ کے بھی قریبی مانے جاتے ہیں۔ سنیل شرما نے 2022 کے انتخابات میں 2 لاکھ سے زیادہ ووٹوں کے ساتھ کامیابی حاصل کی تھی۔ سنیل شرما کو لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر ذات پات کے مساوات کو حل کرنے کے لیے وزیر بنایا گیا ہے۔












