پٹنہ،سماج نیوز سروس: ریاست میں جویلری کی دکانوں میں خواتین کو برقعہ ؍ حجاب میں جانے پر پابندی والے بیان پر ایم ایل سی ڈاکٹر خالد انور نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس طرح کا بیان کوئی فرینج الیمنٹ ہی دے سکتا ہے۔چونکہ یہ نتیش کمار کا بہار ہے ، یہاں خواتین کو سب سے زیادہ حقوق اور عزت و احترام حاصل ہے ۔کوئی انکے حقوق نہیں چھین سکتا ۔ جنہوں نے اس طرح کا بیان دیا ہے انہیں یہ پتہ ہونا چاہئے کہ بہارکاسماج اور صرافہ طبقہ اس منافقانہ پہل کو برداشت نہیں کریں گے۔ جو لوگ خواتین کی عزت و احترام اور سمّان چھیننے کی کوشش کریں گے اس پر حکومت سخت کارروائی کرے گی۔ عوام جانتے ہیں کہ یہ کوئی سرکاری آدیش نہیں ہے بلکہ یہ صرف آل انڈیا جویلرس فیڈریشن کے ریاستی صدر اشوک ورما کا فرمان ہے ۔ اور اس فرمان سے بہار کا تاجر طبقہ بھی خود کو الگ کئے ہوئے ہیں۔یہاںپٹنہ کے بہت سارے تاجر اور دہائیوں پرانا ایسو سی ایشن پاٹلی پترا صرافہ کے ذمہ داروں نے صاف طور پر کہا ہے کہ اس طرح کی پابندی کا کوئی مطلب نہیں ہے ، ہم لوگوں نے صرف ہیلمیٹ پر پابندی عائد کیا ہوا ہے۔ اس طرح کے بیان سےتاجروںکی روزی روٹی پر خطرہ لاحق ہو جائے گا ۔ گراہک کسی بھی تجارت کیلئے بھگوان کا روپ ہوتے ہیں ہٰذا ایسا کرنا ٹھیک نہیں ہے ۔ڈاکٹر خالد انور نےسوال کیا کہ کیا جو خاتون برقعہ یا گھونگھٹ ڈال کر جاتی ہے وہ کیا ڈاکو ہوتی ہیں؟ کیا پردے میں رہ کر خریداری کرنا جرم ہے؟۔کیا آپ خواتین کے حقوق چھین لیں گے۔ یہ اختیار کس نے دیا ہے اشوک ورما کو؟ ۔ ڈاکٹر انور نے آل انڈیا جویلرس فیڈریشن کے ذمہ داروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اشوک ورما کو باہر کا راستہ دکھا کر کسی اچھے سوجھ بوجھ والے انسان کوبہار فیڈریشن کی ذمہ داری سونپے۔ اشوک ورما جیسے لوگ نہ تو سماج کیلئے اچھے ہو سکتے ہیں، نہ نہ ہی صرافہ تاجروں کے لئے بہتر ہوسکتےہیں ۔












