نئی دہلی ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلباء یونین کے سابق صدر اور ایڈوکیٹ سپریم کورٹ زیڈ کے فیضان نے ملی رہنما اور سینیٹر ایڈوکیٹ ظفریاب جیلانی کے انتقال پر اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملت کا ایک عظیم خسارہ بتایا ۔ انھوں نے پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط اپنے ذاتی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان سے میری ملاقات زمانہ طالب علمی میں 1968/69 کے آس پاس اس وقت ہویی تھی جب علی گڈھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی بحالی کی تحریک چل رہی تھی اور ہم دونوں اس لڑائی میں برابر کے شریک تھے۔انہوں نے کہا کہ وہ صحیح معنوں میں ایک علیگیرین اور شریف النفس انسان تھے۔ لوگوں سے مسکرا کر ملنا ان کی فطرت میں شامل تھا۔ ساتھ ہی وہ ایک مدبرانہ اور قائدانہ صلاحیت کے مالک تھے اور مسلم یونیورسٹی و دیگر ملی مسائل کے حل کے لئے ہمیشہ سرگرم عمل رہے۔زیڈ کے فیضان نے کہا کہ ان کی وفات سے جہاں میں نے ایک سچا دوست اور ہمدرد کھو دیا، وہیں علی گڈھ برادری ایک فعال اور مایہ ناز علیگ جب کہ ملت اسلامیہ ایک بیباک اور باصلاحیت قائد سے محروم ہو گئی ۔ انھوں نے کہا کہ ان کی وفات سے ملی قیادت میں جو خلاء پیدا ہو گیا ہے اس کا ازالہ مشکل ہے ۔۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور تمام اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے،آمین۔












