تل ابیب(ہ س)۔اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو تاریخ کا رخ موڑ دے گا۔اتوار کے روز ایک خطاب میں نیتن یاھو نے کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا امریکی فیصلہ بالکل درست تھا اور صدر ٹرمپ نے انتہائی قوت کے ساتھ درست اقدام اٹھایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہمیشہ ٹرمپ کے ساتھ اس اصول پر متفق رہے ہیں کہ طاقت کے ذریعے ہی امن قائم کیا جا سکتا ہے۔نیتن یاھو کا کہنا تھا کہ تاریخ یہ دن یاد رکھے گی کہ صدر ٹرمپ نے دنیا کے سب سے خطرناک نظام کو مہلک ترین ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے فیصلہ کن اقدام کیا۔” ان کے بقول، ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا ایک تاریخی موڑ ہے۔اس کے ساتھ ہی اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے ایک سکیورٹی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ تل ابیب نے فی الوقت ایران پر مزید حملے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب امریکہ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دسویں دن عملی طور پر مداخلت کی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ان کے ملک نے ایرانی جوہری تنصیبات پر کامیاب فضائی کارروائی کی ہے۔ٹرمپ کے مطابق، امریکی جنگی طیاروں نے ایران کے تین اہم جوہری مقامات فردو، نطنز اور اصفہان کو نشانہ بنایا اور اب یہ طیارے ایرانی فضائی حدود سے باہر جا چکے ہیں اور محفوظ طریقے سے واپس آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طیاروں نے فوردو پر بھاری بمباری کی۔ٹرمپ نے کہا کہ دنیا کی کوئی فوج اس نوعیت کی کارروائی نہیں کر سکتی جو امریکی افواج نے انجام دی، اور اعلان کیا: "اب وقت آ گیا ہے کہ امن قائم کیا جائے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فوردو کی تنصیب مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے، اور ایران کو فوری طور پر جنگ ختم کرنے پر آمادہ ہونا چاہیے۔امریکی صدر نے اس لمحے کو امریکہ، اسرائیل اور پوری دنیا کے لیے تاریخی قرار دیا۔ایک مختصر ٹیلیفونک انٹرویو میں رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: "ہم نے آج رات شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو فوری طور پر رک جانا چاہیے ورنہ اسے دوبارہ نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے ایرانی قیادت پر زور دیا کہ وہ فوراً امن کی جانب قدم بڑھائے۔اس سے قبل، امریکی ویب سائٹ ’اکسیوس‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بھی ٹرمپ نے کہا تھا: "آج رات ہماری بڑی کامیابی ہے، اب اسرائیل زیادہ محفوظ ہے۔وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران میں امریکی کارروائی کے حوالے سے رات دس بجے قوم سے خطاب کریں گے۔اسرائیلی نشریاتی ادارے نے ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ تل ابیب نے ایران پر حملے کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی سے کام لیا۔اس عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ نے گزشتہ رات ہی بنجمن نیتن یاھو کو حملے کے وقت سے آگاہ کر دیا تھا۔اس کے بعد اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ حملے کے بعد صدر ٹرمپ اور وزیراعظم نیتن یاھو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا۔












