لبنانی عوام آج بیروت بندرگاہ دھماکے کی پانچویں برسی منا رہے ہیں، جس میں 157 سے زائد افراد ہلاک، 5 ہزار سے زائد زخمی اور درجنوں لاپتہ ہو گئے تھے۔اس موقع پر لبنان کے صدر جوزف عون نے اعلان کیا کہ حکومت دھماکے کے تمام ذمہ داروں کو، ان کے عہدوں یا وابستگیوں سے قطع نظر، انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انھوں نے کہا کہ ریاست کے تمام ادارے سچائی سامنے لانے کے پابند ہیں، اور انصاف کسی استثناء کو نہیں مانتا۔آج بروز پیر اپنے بیان میں صدر عون نے کہا "چار اگست کی وہ الم ناک تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ یہ جرم قوم اور دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ گیا۔
اس نے 200 سے زائد افراد کی جان لی، ہزاروں بے گناہوں کو زخمی کیا اور بیروت کے کئی علاقے تباہ کر دیے۔”صدر نے یقین دہانی کرائی کہ انصاف زندہ ہے اور حساب ضرور ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ وہ اپنا عہدہ سنبھالنے کے وقت سے اس معاملے کو اولین ترجیح دے رہے ہیں اور کسی کو بھی غفلت، کوتاہی یا بد عنوانی کی بنیاد پر سزا سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔
لبنانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ تحقیقات کی شفاف تکمیل کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور متعلقہ اداروں پر دباؤ جاری ہے تاکہ ہر مجرم کو قانون کے دائرے میں لایا جائے۔آخر میں صدر نے متاثرہ خاندانوں سے وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ "آپ کے پیاروں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا … انصاف ضرور آئے گا … یہ وعدہ میں نے خدا اور وطن کے سامنے کیا ہے۔”












