روم (ہ س)۔غزہ کی کے مظلوم اور محصور کیے گئے فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد لے جانے والے بین الاقوامی جہاز ’’حنظلہ‘‘ سے مواصلاتی رابطہ اچانک منقطع ہو گیا ہے، جس پر عالمی سطح پر گہری تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔جہاز کی پرسرار گمشدگی ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب اس کے اردگرد ڈرونز کی مشتبہ پروازوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی تھیں، جس سے ایک ممکنہ اسرائیلی حملے کا خدشہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔فریڈم فلوٹیلا کولیشن، جو مختلف بین الاقوامی تنظیموں پر مشتمل امدادی اتحاد ہے، نے تصدیق کی ہے کہ حنظلہ نامی یہ جہاز اسرائیلی محاصرے کے شکار غزہ کے باسیوں کے لیے امداد لے کر روانہ ہوا تھا، مگر اب کسی بھی قسم کے ریڈیو، سیٹلائٹ یا ڈیجیٹل رابطے میں نہیں رہا۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ جہاز کے گرد ڈرونز کی پروازوں نے اس خطرے کو جنم دیا ہے کہ ممکنہ طور پر اسے روکا جا چکا ہے یا اس پر حملہ کیا گیا ہے۔کولیشن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں عالمی برادری، انسانی حقوق کے اداروں اور بین الاقوامی میڈیا سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے پر آواز بلند کریں اور اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ جہاز کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے اور عملے کی سلامتی یقینی بنائی جائے۔تاحال حنظلہ کی موجودہ لوکیشن یا اس پر موجود عملے کی حالت کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات دستیاب نہیں ہیں، جس سے صورتحال مزید خطرناک ہو گئی ہے۔ امدادی مشن کے لیے روانہ ہونے والے اس جہاز کی گمشدگی نے نہ صرف فریڈم فلوٹیلا کی مہم کو ایک نئے بحران سے دوچار کر دیا ہے بلکہ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کے لیے بھی ایک کڑا سوال اٹھا دیا ہے۔یہ واقعہ ایسے وقت پر پیش آیا ہے جب حالیہ مہینوں میں اسی تنظیم کی دو دیگر امدادی کشتیوں کو بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ رواں سال 2 مئی کو ایک امدادی جہاز کو مالٹا کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں اس میں آگ بھڑک اٹھی تھی جب کہ 9 جون کو اسرائیلی فورسز نے میڈلین نامی کشتی کو بین الاقوامی پانیوں میں روک کر اس پر سوار 12 افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔فریڈم فلوٹیلا کا مقصد غزہ پر عائد اسرائیلی ناکہ بندی کو توڑنا اور محصور فلسطینی عوام تک براہ راست انسانی امداد پہنچانا ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے یہ مشن ضروری ہے، کیونکہ محض الفاظ اور بیانات سے فلسطینیوں کے زخموں پر مرہم نہیں رکھا جا سکتا۔












