سید پرویز قیصر
کنیڈا کے خلاف نیویارک کے نسسو کاونٹی انٹر نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ٹونٹی ٹونٹی عالمی کپ میںگروپ اے کے میچ میں پاکستان کے تیز بالر حارث روف نے چار اوور میں 26 رن دیکر دو کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔ انہوں نے وکٹ کیپر شریاس موا کو وکٹ کیپر محمد رضوان کے ہاتھوں کیچ کرکے ٹونٹی ٹونٹی بین الاقوامی کرکٹ میں اپنے وکٹوں کی سنچری مکمل۔
بنگلہ دیش کے خلاف لاہور میں24 جنوری2020 کا اپنا پہلا ٹونٹی ٹونٹی بین الاقوامی میچ کھیلنے والے دائیں ہاتھ کے اس تیز بالر نے سو وکٹ مکمل کرنے میں چار سال اور139 دن کا وقت لیا۔ وہ ٹونٹی ٹونٹی بین الاقوامی کرکٹ میں سو یا اس سے زیادہ کھلاڑیوں کو آوٹ کرنے والے پاکستان کے دوسرے اور کل ملاکر چودھویں بالر بنے۔ انکے بعد آسڑیلیا کے ایڈم زمپا نے اپنے سو وکٹ مکمل کئے جسکے بعد یہ تعداد اب پندرہ ہوگئی ہے۔
حارث روف نے اپنا سواں وکٹ71 ویں میچ میں لیا اور ٹونٹی ٹونٹی بین الاقوامی کرکٹ میں تیسرے سب سے تیز سو وکٹ لینے والے بنے۔ سب سے کم میچوں میں سو وکٹ افغانستان کے راشد خان نے لئے ہیں ۔انہوں نے53 ویں میچ میں ایسا کیا تھا۔ سری لنکا نے وانندوہسا رنگا نے اپنے سو وکٹ63 ویں میچ میں مکمل کئے تھے۔
کینڈا کے خلاف میچ کے اختتام تک حارث روف نے جو71 میچ کھیلے ہیں انکی69 اننگوں میں 257.4 اوور میں20.98 کی اوسط 15.30 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ101 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا ہے۔ وہ تین مرتبہ ایک اننگ میں چار کھلاڑیوں کو آوٹ کرنے میں کامیاب رہے ہیں اور انکی سب سے اچھی بالنگ کارکردگی 3.3 اوور میں18 رن دیکر چار وکٹ ہے جو انہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف لاہور میں 14 اپریل2023 کو انجام دی تھی۔اس میچ میں پاکستان نے 88 رن سے جیت حاصل کی تھی۔
پاکستان کی جانب سے ٹونٹی ٹونٹی بین الاقوامی کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹ حاصل کرنے والے بالر شاداب خان ہیں۔ اس لیگ بریک بالر نے 2017 سے اب تک جو103 میچ کھیلے ہیں انکی95 اننگوں میں 347.1 اوور میں2511 رن دیکر23.46 کی اوسط اور6 19.4 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ107 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا ہے۔ وہ تین مرتبہ ایک اننگ میں چار کھلاڑیوں کو آوٹ کرنے میں کامیاب رہے ہیں اور انکی سب سے اچھی بالنگ کارکردگی2.4 اوور میں آٹھ رن دیکر چار وکٹ ہے جو انہوں نے شارجہ میں 2 ستمبر2022 کو ہوئے میچ میں انجام دی تھی۔ اس میچ میںپاکستان نے 155 رن سے کامیابی اپنے نام کی تھی۔
حارث روف کی موجودگی میں پاکستان کو60 میچوں میں جیت ملی ہے۔ ان 60 میچوں کی59 اننگوں میں انہوں نے219.3 اوور میں1470 رن دیکر6.69 کی اوسط اور9 15.8 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ83 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا ہے۔ وہ دو مرتبہ ایک اننگ میں چار کھلاڑیوں کو آوٹ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ انکے ٹیم میں رہتے پاکستان کو جن 35 میچوں میں شکست ہوئی ہے انکی32 اننگوں میں 116.4 اوور میں948 رن دیکر43.09 کی اوسط اور 1 31.8 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ22 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا ہے۔ وہ ایک مرتبہ ایک اننگ میں چار وکٹ لینے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔ ایک ٹائی میچ میں انہوں نے تین اوور میں 27 رن دیکر کوئی وکٹ نہیں لیا ہے جبکہ سات نامکمل میچوں میں وہ آٹھ اوور میں66 رن دیکر دو کھلاڑیوں کو آوٹ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔












