علی گڑھ،سماج نیوز سروس: شعبۂ اسلامک اسٹڈیز، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کانفرنس ہال میں احمد یٰسین کٹّاکاتھ کی پی ایچ ڈی پری سبمیشن کے سلسلے میں ایک اہم علمی نشست منعقد ہوئی۔ ان کے تحقیقی مقالے کا عنوان ’’علوم اسلامیہ کے فروغ میں بین الاقوامی ادارہ فکر اسلامی (IIIT) کی خدمات‘‘ ہے جسے انہوں نے شعبہ کے ممتاز استاد اور معروف محقق، پروفیسر ضیاء الدین فلاحی کی نگرانی میں مکمل کیا جو اپنی علمی و تحقیقی خدمات کے باعث قومی و بین الاقوامی حلقوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ مختلف علمی جرائد سے بطور مدیر وابستگی اور مجالسِ ادارت میں ان کے فعال کردار سے ان کی علمی بصیرت اور تحقیقی رہنمائی کی وسعت اور اثر انگیزی کا اندازہ ہوتا ہے۔پروفیسر ضیاء الدین فلاحی نے اپنے خطاب میں محقق اسکالر کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ موصوف کا تعلق ریاست کیرلا سے ہے اور وہ بصارت سے محروم ہونے کے باوجود غیر معمولی عزم و حوصلہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس امر کو خاص طور پر سراہا کہ احمد یٰسین نے اپنی جسمانی مجبوری کو کبھی اپنی علمی پیش رفت میں رکاوٹ نہیں بننے دیا بلکہ مسلسل محنت، استقامت اور سنجیدگی کے ساتھ اپنے تحقیقی سفر کو کامیابی کے ساتھ جاری رکھا۔ دورانِ تحقیق ہی کیرلا میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر ان کی تقرری ان کی علمی صلاحیتوں کا واضح اعتراف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تحقیق دراصل IIIT امریکہ کی علمی و فکری خدمات کا منظم تجزیہ ہے، جس سے اس ادارے کے فکری منہج اور عالمی اثرات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے اسماعیل راجی الفاروقی اور طہ جابر العلوانی کے پیش کردہ ’اسلامائزیشن آف نالج ‘کے تصور کو ایک ہمہ گیر علمی تحریک قرار دیا۔انہوں نے واضح کیا کہ IIIT نے نالج علم کی علمیاتی بنیادوں کی تشکیل نواور مقاصدِ شریعت کی روشنی میں سماجی علوم کے تنقیدی جائزے کے ذریعے اسلامی اور جدید علوم کے درمیان بامعنی ربط قائم کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ تحقیق نہ صرف IIIT کی خدمات کو دستاویزی شکل دیتی ہے بلکہ معاصر علمی مکالمے میں اس کے مؤثر کردار کو بھی واضح کرتی ہے۔ احمد یٰسین کٹاکاتھ نے پی پی ٹی کے ذریعے اپنے مقالے کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ IIIT نے اسلامی علوم کی تشکیلِ جدید، بین العلومی مکالمے کے فروغ اور عصری تقاضوں کے مطابق اسلامی فکر کی تجدید میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1981 میں قائم ہونے والا یہ ادارہ اب ایک عالمی علمی تحریک بن چکا ہے جس کے تحت تقریباً 600 معیاری کتب شائع ہو کر 35 سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔ یہ کاوشیں دراصل اسلامائزیشن آف نالج کے اس وسیع منصوبے کا حصہ ہیں جس کا مقصد علم کو اسلامی تناظر میں از سر نو مرتب کرنا اور اسے مقاصدِ شریعت کے اصولوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ اس علمی نشست میں اساتذہ، طلبہ اور ریسرچ اسکالرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور وقفۂ چائے کے دوران بھی علمی تبادلۂ خیال جاری رہا۔ ڈاکٹر نگہت رشید نے تحقیق کو ایک اہم علمی خلا کی تکمیل قرار دیتے ہوئے IIIT کی خدمات کی مؤثر پیشکش کو سراہا جبکہ ڈاکٹر بلال احمد کٹی نے مقالے کے مضبوط تجزیاتی پہلوؤں کی تحسین کے ساتھ بعض مقامات پر مزید تنقیدی و حوالہ جاتی توسیع کی ضرورت کی نشاندہی کی۔ ڈاکٹر اعجاز احمد نے تحقیق کی فکری گہرائی کو نمایاں قرار دیا اور ڈاکٹر عرشی شعیب نے موضوع کی عصری اہمیت پر زور دیا۔ ڈاکٹر بلال احمد کٹی کی جانب سے باب پنجم سے متعلق پیش کردہ تجاویز کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے انہیں مقالے میں شامل کرنے کی ہدایت دی گئی نیز تحقیق کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بعض مقامات پر وضاحت اور حوالہ جاتی تقویت پر بھی زور دیا گیا۔ آخر میں شرکاء نے پروفیسر ضیاء الدین فلاحی اور احمد یٰسین کٹّاکاتھ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ تحقیق اسلامی علوم میں ایک قابلِ قدر اضافہ ثابت ہوگی، جبکہ پروگرام کا آغاز پی ایچ ڈی اسکالر سیف الاسلام کی تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔












