تل ابیب (ہ س)۔ ایران- اسرائیل فوجی تنازعہ آج آٹھویں روز میں داخل ہو گیا۔ اسرائیل کی طرف سے شروع کیے گئے فضائی حملوں کے جواب کی آگ میں جلتا ہوا ایران تباہی مچا رہا ہے۔ ایران نے بیلسٹک میزائل داغنا شروع کر دیا ہے۔ ایک اور ایرانی میزائل بئرسبع شہر کے ٹیک پارک کے قریب گرا ہے۔ اس کے بعد دھماکے اور آگ لگنے سے کافی نقصان ہوا ہے۔ یہ جگہ مائیکرسافٹ کے دفتر کے قریب ہے۔ٹائمز آف اسرائیل اخبار کی خبر کے مطابق ایران کا ایک میزائل بئرسبع میں گرا ہے۔ اس سے کافی نقصان ہوا ہے لیکن کسی کے زخمی ہونے کی فوری اطلاع نہیں ہے۔ اسرائیل ڈیفنس فورسز ( آئی ڈی ایف) نے شہریوں سے کہا کہ وہ بئرسبع میں اپنی پناہ گاہیں چھوڑ سکتے ہیں۔ خبر کے مطابق بئرسبع شہر اور آس پاس کے شہروں میں اب بھی حملے کے سائرن بج رہے ہیں۔ آئی ڈی ایف نے کہا کہ دفاعی نظام ایرانی میزائلوں کو ناکارہ بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔امریکہ کے سی این این چینل کی خبر کے مطابق آئی ڈی ایف نے کہا ہے کہ بئرسبع میں لگی آگ کو بجھایا جا رہا ہے۔ ایک ایرانی میزائل کو روک لیا گیا ہے۔ یہ آگ ٹیک پارک کے قریب دھماکے کے بعد لگی۔ مائیکروسافٹ کا دفتر یہاں ہے۔ اسرائیلی پولیس نے کہا کہ جنوبی ضلع کے کھلے علاقوں میں گولہ بارود گرنے کی اطلاعات ملی ہیں۔ اس سے منقولہ اور غیر منقولہ املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز ایرانی حملے میں بئرسبع کے مرکزی اسپتال سوروکا میڈیکل سینٹر کو نقصان پہنچا ہے۔ بیر سبع صحرائے نیگیو میں ہے۔ اسرائیل کا نیواتم ایئربیس یہاں واقع ہے۔ ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی مہر کی خبر کے مطابق اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مشن نے سوروکا میڈیکل سینٹر کو نشانہ بنانے کے اسرائیل کے الزام کو مسترد کردیا ہے۔ مشن نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق کارروائی کر رہا ہے۔ اس جنگ کے بارے میں ایران کے سابق وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ اب اسلامی جمہوریہ ایران فیصلہ کرے گا کہ جنگ کیسے ختم ہوگی۔سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل کے خلاف جوابی فوجی حملوں کا ایک نیا دور جمعرات کی شام بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے شروع کیا گیا۔ ایران کی تسنیم خبر رساں ایجنسی کے مطابق، انہیں حیفہ اور تل ابیب میں اسرائیلی فوجی صنعتوں سے منسلک فوجی اڈوں اور صنعتی مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔












