پیرس(ہ س)۔فرانس کے وزیر دفاع سباستیان لیکورنو نے خبردار کیا ہے کہ ایران کا خطرہ حقیقی ہے اور اسے سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس جوہری بم بنانے کے تمام وسائل موجود ہیں۔فرانسیسی وزیر دفاع نے کہا کہ ایران کے بعض بیلسٹک میزائل فرانس کی سرزمین تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے بہ قول ایران چند ہی دنوں میں 90 فیصد تک یورینیم کو افزودہ کرنے کی سطح تک پہنچ سکتا ہے، جو کہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے ضروری حد سمجھی جاتی ہے۔لیکورنو نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ایران اس سطح تک پہنچ گیا تو وہ دس ایٹمی بم تیار کرنے کے قابل ہو جائے گا۔انہوں نے زور دیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کو فوری طور پر روکنا ہوگا تاکہ صورت حال کسی بند گلی میں نہ پہنچ جائے۔یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ایران کے صدر مسعود بزشکیان نے فرانسیسی صدر عمانویل میکروں کو ٹیلیفون پر بتایا کہ اگر اسرائیل کے حملے جاری رہے تو تہران کا ردعمل مزید سخت ہوگا۔صدر بزشکیان نے کہا کہ ایران کسی بھی حال میں اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ’ہم کسی بھی صورت میں اپنی جوہری سرگرمیوں کو صفر پر نہیں لائیں گے اور اگر صہیونی ریاست نے جارحیت جاری رکھی تو ہمارا ردعمل اور زیادہ سخت ہوگا۔’جنگ اور دھمکی سے حقوق نہیں چھینے جا سکتے‘ صدر ایران کا کہنا تھا کہ ’حقوق کو جنگ اور دھمکیوں سے سلب نہیں کیا جا سکتا‘۔فرانسیسی صدر عمانویل میکروں نے بھی بزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کے بعد کہا کہ وہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے سفارتی حل کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ’مجھے یقین ہے کہ جنگ کے خاتمے اور بڑے خطرات سے بچاؤ کا ایک راستہ موجود ہے‘۔میکروں نے یہ بھی بتایا کہ وہ اور ان کے یورپی شراکت دار ایران کے ساتھ مذاکرات کی رفتار کو تیز کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں، اور اس بات کی مکمل ضمانت دینا ایران کی ذمہ داری ہے کہ اس کا پروگرام پْرامن مقاصد کے لیے ہے۔ادھر یورپی قوتوں نے بھی ایران سے امریکہ کے ساتھ سفارتی کوششیں جاری رکھنے کی اپیل کی ہے تاکہ جوہری پروگرام سے جڑے بحران کا حل نکالا جا سکے۔ فرانس، جرمنی اور برطانیہ پر مشتمل یورپی ٹرائکا نے ایک جامع منصوبہ پیش کیا ہے جس میں تین نکات شامل ہیں: یورینیم کی افزودگی روکنا، جوہری پروگرام پر مزید شفافیت اور بین الاقوامی معائنہ کاروں کو ایرانی تنصیبات تک مکمل رسائی دینا شامل ہے۔منصوبے میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ ایران خطے میں مسلح گروہوں کی مالی اور عسکری معاونت بند کرے۔عرب اور یورپی ذرائع نے بتایا کہ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی، اسٹیو وٹکوف نے ماضی میں ایران کو ایک پیشکش دی تھی جس کے تحت وہ افزودگی بند کر دیتا، لیکن اسے ایک ’علاقائی اتحاد‘ یا’کنسورشیم‘ کے ذریعے افزودہ ایندھن تک رسائی دی جاتی۔ذرائع کے مطابق ایران 3.67 فیصد افزودگی کی حد قبول کرنے پر آمادہ تھا، جو کہ شہری مقاصد کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہے، لیکن وہ اس سے مکمل دستبرداری پر تیار نہیں۔












