تل ابیب(ہ س)۔اسرائیل اور امریکہ کے مذاکرات کاروں نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات سے دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے، واشنگٹن نے حماس پر ’نیک نیتی سے کام نہ کرنے‘ کا الزام عائد کیا ہے۔ایک بیان میں امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف نے کہا کہ ’ہم نے حماس کی جانب سے تازہ ترین ردعمل کے بعد مشاورت کے لیے اپنی ٹیم کو دوحہ سے وطن واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے جس سے واضح طور پر غزہ میں جنگ بندی کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔حماس نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ مذاکرات میں شامل تمام فریقین بشمول ثالث اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اہم معاملات پر مزید بات چیت ہونا باقی ہے۔جمعرات کو جاری ہونے والے بیان میں وٹکوف نے کہا کہ ’اگرچہ ثالثوں نے بہت کوشش کی ہے لیکن حماس نیک نیتی سے کام کرتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اب ہم یرغمالیوں کو وطن واپس لانے اور غزہ کے عوام کے لیے زیادہ محفوظ اور مستحکم ماحول پیدا کرنے کے لیے متبادل آپشنز پر غور کریں گے۔‘امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف نہ کہ ا کہ ’یہ بہت شرم کی بات ہے کہ حماس نے اس خود غرضانہ انداز میں کام کیا ہے۔ ہم اس تنازعے کے خاتمے اور غزہ میں مستقل امن کے خواہاں ہیں۔‘اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے ابھی تک عوامی طور پر اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے کہ اسرائیلی مذاکرات کار دوحہ سے کیوں واپس جا رہے ہیں۔‘تاہم سینئر اسرائیلی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات میں کوئی خلل نہیں پڑا۔واضح رہے کہ دوحہ میں قطری اور مصری ثالثوں کے ساتھ مذاکرات کا تازہ ترین دور دو ہفتوں سے زائد عرصے سے جاری ہے۔اس سے قبل جمعرات کو اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے (انروا) نے کہا تھا کہ غزہ شہر میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ اب غذائی قلت کا شکار ہے اور ہر روز ایسے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔100 سے زائد بین الاقوامی امدادی تنظیموں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے بھی غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر خوراک کی کمی کے بارے میں متنبہ کیا ہے اور حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری اقدامات لیں۔اسرائیل، جو فلسطینی علاقے میں تمام رسد کے داخلے کو کنٹرول کرتا رہا ہے کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ غزہ کا کوئی محاصرہ نہیں کیا گیا ہے اور اسرائیلی حکام غذائی قلت کے لیے حماس کو مورد الزام ٹھہراتے چلے آئے ہیں۔












