غزہ:اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے شمال میں واقع الدرج اور التفاح محلوں کے رہائشیوں کے لیے انخلا کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔عربی زبان میں اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرائی نے ایک پوسٹ میں کہا کہ اسرائیلی فوج ہر اس مقام پر بھرپور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے جہاں سے سرگرمیاں کی جاتی ہیں یا جہاں سے اسرائیل کی طرف میزائل داغے جاتے ہیں۔ ہم ان تمام لوگوں سے جو اس علاقے کو خالی نہیں کر سکے ہیں۔ فوراً جنوب میں المواصی کے علاقے کی طرف جانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔جمعرات کو غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے مختلف فضائی حملوں کے نتیجے میں بچوں سمیت 32 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی کر دیے گئے۔ طبی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوج کے حملوں میں پناہ گزینوں کے خیمے، مکانات، اور پٹی کے مختلف علاقوں میں امداد کا انتظار کرنے والے عام شہریوں کے ہجوم کو نشانہ بنایا گیا۔دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی کے شمال سے پٹی سے متصل ایک بستی کی طرف داغے گئے ایک میزائل کو روک لیا گیا ہے۔ اس کے جواب میں اسلامی جہاد” نے نیر عام بستی پر بمباری کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ جمعرات کی شام کو ہی اسرائیلی سکیورٹی کونسل کا اجلاس غزہ کی پٹی میں فوجی کارروائیوں کو وسعت دینے کے امکان پر بحث کے لیے شروع ہوا ۔ فوجی کارروائیوں کو وسعت دینے کو بین الاقوامی سطح پر اور اسرائیل کے اندر بھی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کے خاندانوں کی طرف سے بھی شدید احتجاج کیا جا سکتا ہے۔ایک اسرائیلی اہلکار نے ایسوسی ایٹڈ پریس” ایجنسی کو بتایا کہ سکیورٹی کونسل سے ایک طویل بحث کرنے اور غزہ کی پٹی کے پورے یا اس کے ان حصوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ایک توسیع شدہ فوجی منصوبے کی منظوری کی توقع ہے۔












