پاکستان کا اپنے شہریوں کے یوکرین تنازع میں ملوث ہونے کے الزامات کو سختی سے انکاراسلام آباد، 5 اگست (یو این آئی) پاکستان نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے یوکرین کے تنازع میں پاکستانی شہریوں کے ملوث ہونے کے الزام کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے دوٹوک انداز میں مسترد کردیا۔ڈان نیوز کے مطابق پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی شہریوں کے یوکرین تنازع میں مبینہ ملوث ہونے سے متعلق الزامات کو حکومتِ پاکستان سختی سے مسترد کرتی ہے، یہ الزامات بے بنیاد، من گھڑت اور حقائق کے منافی ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یوکرینی حکام نے اب تک نہ تو حکومت پاکستان سے باضابطہ کوئی رابطہ کیا ہے اور نہ ہی ایسے دعووں کی تائید میں کوئی مصدقہ یا قابلِ تصدیق شواہد پیش کیے ہیں۔دفتر خارجہ کے مطابق حکومتِ پاکستان اس معاملے کو یوکرینی حکام کے ساتھ اٹھائے گی اور اس حوالے سے وضاحت طلب کرے گی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان، اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے یوکرین تنازع کے پرامن حل کے عزم کا ایک بار پھر اعادہ کرتا ہے۔قبل ازیں، خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے الزام عائد کیا تھا کہ شمال مشرقی یوکرین میں تعینات ان کے فوجی غیر ملکی ’مرسنیریز‘ سے لڑ رہے ہیں جن کا تعلق چین، پاکستان اور افریقہ کے مختلف حصوں سمیت متعدد ممالک سے ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں یوکرینی صدر نے لکھا کہ ’ہم نے کمانڈرز سے فرنٹ لائن کی صورتحال، ووچانسک کے دفاع اور جنگی پیش رفت پر گفتگو کی، اس سیکٹر میں ہمارے جوانوں نے اطلاع دی ہے کہ جنگ میں چین، تاجکستان، ازبکستان، پاکستان اور افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے کرائے کے جنگجو شریک ہیں۔












