جدہ:سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے دو ریاستی حل کے حوالے سے نیویارک میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کے اختتامی اعلامیے کی منظوری دیتے ہوئے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اس اہم دستاویز کی حمایت کریں۔شہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا تھا کہ کانفرنس کی سفارشات سیاست، انسانی ہمدردی، سکیورٹی، معیشت، قانون اور تزویراتی بیانیے کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہیں اور یہ ایک ایسا جامع اور قابلِ عمل فریم ورک پیش کرتی ہیں جس کے ذریعے دو ریاستی حل کو عملی شکل دی جا سکتی ہے اور خطے میں سب کے لیے امن و سلامتی ممکن بنائی جا سکتی ہے”۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اس اعلامیے کی تائید کریں، خاص طور پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ سیشن کے آغاز سے قبل، جو ستمبر میں منعقد ہوگا۔وزیر خارجہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ "سعودی عرب ہر اس حملے کی مذمت کرتا ہے جو کسی بھی فریق کی جانب سے عام شہریوں پر کیا جائے، چاہے وہ اندھا دھند بمباری ہو، شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا ہو یا اشتعال انگیزی، اکسانا اور تباہی پھیلانا ہو”۔
اعلامیے میں زور دیا گیا ہے کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے اور اسرائیل ۔ فلسطین تنازعے کا ایک منصفانہ، پرامن اور دیرپا حل تلاش کیا جائے، جس کی بنیاد دو ریاستی حل پر ہو اور جس سے فلسطینیوں، اسرائیلیوں اور پورے خطے کے عوام کے لیے ایک بہتر مستقبل کی راہ ہموار ہو۔تین روزہ کانفرنس سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ قیادت میں نیویارک میں منعقد ہوئی، جس کا مقصد فلسطینی مسئلے کے پرامن حل کے لیے عملی اقدامات، مقررہ ٹائم فریم اور ناقابلِ واپسی فیصلے کرنا تھا۔ اس کے ذریعے جلد از جلد ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنانا ہے، جو فلسطینی عوام کو ان کا حق خود ارادیت اور اپنی سرزمین پر باعزت زندگی گزارنے کا حق فراہم کرے۔
سعودی عرب نے جمعرات کو کینیڈا اور مالٹا کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے کہ وہ ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور دوسرے ممالک سے بھی اس کی پیروی کرنے پر زور دیا۔مملکت کی وزارتِ خارجہ نے ایکس پر ایک بیان میں کہا، "مملکت ایسے مثبت فیصلوں کی تعریف کرتی ہے جو دو ریاستی حل کو مستحکم کریں اور برادر فلسطینی عوام کی جدوجہد کو ختم کرنے کی ضرورت کے حوالے سے بین الاقوامی برادریوں کے اتفاق پر زور دیں۔
[سعودی عرب] دوسرے ممالک سے ایسے سنجیدہ اقدامات کرنے کے لیے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتا ہے جو امن کی حمایت کریں۔”حالیہ دنوں میں کینیڈا اور مالٹا نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔یہ پیش رفت فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے گذشتہ ہفتے اس اعلان کے بعد ہوئی ہے کہ فرانس فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے قدم اٹھانے والا ہے۔ برطانیہ نے اس ہفتے کہا تھا کہ اگر اسرائیل نے غزہ کی صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے مخصوص اقدامات نہ کیے تو وہ بھی اس اقدام کی پیروی کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔یہ فیصلے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اقوامِ متحدہ نے اس ہفتے فلسطینی مقصد اور اسرائیل-فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل پر سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کانفرنس کی میزبانی کی۔












