واشنگٹن(ہ س)۔امریکی ویب سائٹ "ایکسیوس” نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اسرائیل اور شام کے اعلیٰ حکام کے درمیان جمعرات کو ایک اہم ملاقات متوقع ہے۔ اس ملاقات کا مقصد جنوبی شام کی صورتحال پر سکیورٹی سمجھوتوں تک پہنچنا ہے۔ یہ پیش رفت ایک امریکی عہدیدار اور ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔یہ اجلاس گذشتہ ہفتے جنوبی شامی شہر السویداء میں شروع ہونے والے بحران اور اس کے بعد دمشق پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد پہلا سہ فریقی رابطہ ہوگا۔قبل ازیں العربیہ اور الحدث ذرائع نے اطلاع دی تھی کہ شام اور اسرائیل کے درمیان سکیورٹی رابطے بحال ہو چکے ہیں، جو امریکی اور ترکیہ کی سرپرستی میں انجام پا رہے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ ترکیہ اور شام کے درمیان قسد، دروز، علویوں اور اسرائیل کے ساتھ ممکنہ سمجھوتوں سے متعلق بات چیت جاری ہے۔ مزید یہ کہ ایک اسرائیلی وفد جلد آذربائیجان روانہ ہوگا تاکہ السویداء کے معاملے سمیت دیگر امور پر اتفاق رائے کو حتمی شکل دی جا سکے۔ذرائع کے مطابق شامی حکومت اسرائیل کے ردعمل سے حیران رہ گئی تھی، جو السویداء کے واقعات کے جواب میں سامنے آیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان شام کے بحران پر بھی رابطے جاری ہیں۔ذرائع کے مطابق اسرائیل نے شام میں اپنے حملے روکنے کی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی بلکہ وہ 1974 کی جنگ بندی لائن پر واقع علاقوں میں غیر فوجی زون کے قیام اور وہاں مستقل موجودگی کا مطالبہ کر رہا ہے۔یہ عارضی غیر فوجی پٹی تقریباً 80 کلومیٹر طویل ہے، جس کی چوڑائی 500 میٹر سے لے کر 10 کلومیٹر تک ہیاور اس کا رقبہ 235 مربع کلومیٹر بنتا ہے۔ یہ علاقہ مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں اور شام کے باقی حصے کے درمیان واقع ہے۔












