پیرس(ہ س)۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اور امریکی ایلچی برائے شام ٹوم براک کے مطابق، جمعرات کو پیرس میں ایک غیر معمولی ملاقات کا انعقاد ہوا جس میں شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی اور اسرائیلی وزیر برائے تزویراتی امور رون دیرمر نے شرکت کی۔امریکی ایلچی ٹوم براک نے جمعرات کو ایکس پر لکھا کہ ہم نے پیرس میں شامی اور اسرائیلی فریقوں سے ملاقات کا مقصد حاصل کر لیا ہے… دونوں فریقوں نے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ٹومی بیگوٹ نے کہا ہے کہ شام اس وقت "ایک فیصلہ کن موڑ” پر ہے، خاص طور پر جنوبی صوبے سویداء میں حالیہ واقعات کی روشنی میں۔بیگوٹ نے کہا کہ امریکی ایلچی ٹوم براک اور وزیر خارجہ مارکو روبیو گزشتہ کئی دنوں سے تمام فریقوں سے رابطے میں ہیں، اور یہ سفارتی کوششیں بدستور جاری ہیں۔ادھر ایک اعلیٰ سطحی سفارتی ذریعے نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ جمعرات کو پیرس میں شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی اور اسرائیلی وزیر رون دیرمر کے درمیان ایک غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا۔ اس ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس اجلاس کے لیے راہ امریکی ایلچی ٹوم براک نے ہموار کی تھی۔یہ ملاقات جولائی کے وسط میں سویداء میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد پہلی بار ہوئی ہے۔ ان جھڑپوں کے دوران اسرائیل نے دمشق میں صدارتی محل اور وزارت دفاع کے قریب فضائی حملے کیے تھے۔ اسرائیل یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ دروز اقلیت کا تحفظ چاہتا ہے۔اسی ضمن میں فرانسیسی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ فرانس کے وزیر خارجہ ڑاں نوئل بارو جمعے کو پیرس میں اسعد الشیبانی اور ٹوم براک سے شام کی صورت حال پر گفتگو کریں گے۔فرانسیسی وزارت کے مطابق، وزیر خارجہ بارو جمعہ کو سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (کرد فورسز) کے کمانڈر مظلوم عبدی سے بھی ٹیلیفون پر بات کریں گے۔ادھر، دمشق حکومت اور شمال و شمال مشرقی شام پر قابض کرد خود مختار انتظامیہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ شامی حکومت نئی پالیسی کے تحت ان علاقوں کو قومی ریاست میں ضم کرنا چاہتی ہے۔اسی سلسلے میں 10 مارچ کو شامی صدر احمد الشرع اور مظلوم عبدی کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا، لیکن اس پر عمل درآمد رکا ہوا ہے کیونکہ دونوں فریقوں میں اختلافات باقی ہیں۔ کرد فریق خصوصی طور پر غیرمرکوز نظام حکومت کا مطالبہ کر رہا ہے، جسے دمشق کی حکومت مسترد کرتی ہے۔












