
پارلیمنٹ جمہوری نظام کا وہ مقدس مندر ہے جہاں عوام کے نمائندے قوم کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں، پالیسیوں پر بحث کرتے ہیں، اور حکومت کو جوابدہ بناتے ہیں۔ مگر جب اسی پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس سے قبل ہی وزیر اعظم نریندر مودی اس کے وقار کو نظر انداز کرتے ہوئے کنونشن ہال کے باہر کھڑے ہو کر قوم سے خطاب کرتے ہیں، اور ایک انتہائی حساس مسئلہ "آپریشن سیندور” پر اپنی مرضی سے بیان دے کر آگے بڑھ جاتے ہیں، تو یہ رویہ کسی بھی جمہوریت کے لیے باعث تشویش ہے۔
وزیر اعظم کا یہ طرز عمل صاف ظاہر کرتا ہے کہ ان کے نزدیک نہ پارلیمنٹ کی بالادستی کا کوئی مقام ہے، نہ حزبِ اختلاف کا احترام، اور نہ ہی عوام کے سوالات کا جواب دینا ان کی ذمہ داری ہے۔ وہ چاہیں تو پارلیمنٹ میں بولیں، چاہیں تو باہر، اور اگر نہ چاہیں تو مکمل خاموشی اختیار کرلیں—گویا ایک "سپریم لیڈر” کی طرح جنہیں کسی ادارے یا اصول کے آگے جواب دہ ہونے کی ضرورت نہیں۔
آپریشن سیندور، جس میں ملک کے پانچ رسالہ بردار جہازوں اور چار پائلٹوں کی شہادت کی خبر منظرِ عام پر آئی،اور وہ بھی امریکہ کے صدر کی زبانی جو مسلسل یہ کہے جا رہا ہے کہ ہند و پاکستان جنگ کو ہم نے رکوایا ۔ ایک معمولی واقعہ نہیں تھا۔یہی وہ وقت تھا جب اس پر باضابطہ بحث ہونی چاہیے تھی، پارلیمنٹ میں وزیر دفاع یا وزیر اعظم کو وضاحت دینی چاہیے تھی، سوالات اٹھتے، جوابات دیے جاتے، اور قوم کو اعتماد میں لیا جاتا۔اور وضاحت کر دی جاتی کہ جنگ بندی میں امریکہ کا کوئی رول نہیں تھا ۔ہم نے پہلگام دہشت گردانہ حملہ کے خلاف پاکستان میں موجود دہشت گردی کے اڈوں پر حملہ کر کے اسے نیست و نابود کر دیا اور ہماری ائیر فورس واپس اپنے بیرکوں میں آگئی ۔تین چار یا پانچ جہازوں اور اس کے پائلٹوں کے مارے جانے کی جو خبر ہے وہ جھوٹی ہے ۔مگر افسوس کہ جمہوری روایات کو روندتے ہوئے وزیر اعظم نے اسے ایک طے شدہ نکتہ سمجھا اور خود ہی جج، وکیل اور منصف بن کر اپنا بیان سنا دیا۔
یہ رویہ نہ صرف اپوزیشن بلکہ پورے جمہوری ڈھانچے کی توہین ہے۔ اپوزیشن کا کام صرف شور شرابا کرنا نہیں، بلکہ عوام کی آواز بن کر حکومت سے جواب طلبی کرنا بھی ہے۔ اور اگر حکومت، بالخصوص وزیر اعظم، خود کو اس سے بالاتر سمجھے تو یہ جمہوریت کے بجائے شخصی حکمرانی کی علامت بن جاتی ہے۔
ویسے بھی جب سے وزیر اعظم مودی نے اقتدار پر قبضہ کیا تب سے وہ کسی نہ کسی طرح مسلسل یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ ایک سپریم لیڈر ہیں اور ان کا ہر قدم جائز ہے ۔چاہے اس کی زد میں آئین آئے، قانون آئے یا جمہوری اقدار ۔حزب اختلاف کو ملک دشمن سمجھنے اور اس کے اظہار میں بھی انہوں نے کبھی کوئی شرم محسوس نہیں کی ۔آج ایک بار پھر انہوں نے پارلیمنٹ کے سامنے کھڑے ہوکر جو جو بیان دیا ہے وہ بیان نہیں بلکہ خود ستائی کا قصیدہ ہے جو وہ اکثر پڑھتے رہتے ہیں ۔آج ایک بار پھر یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ خود کو ایک مضبوط قوت ارادی کا مالک بتانے والے وزیر اعظم میں اپوزیشن کو جواب دینے کی ہمت نہیں ۔وہ صرف اپنا لکھا ہوا بیان پڑھ سکتے ہیں اور وہ بھی ٹیلی پرامٹر
کے سامنے ۔ آج یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ آپریشن سیندور پر ڈونالڈ ٹرمپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ سچ ہے ۔ورنہ وزیر اعظم کے پاس اس سے اچھا موقعہ نہیں تھا کہ پارلیمنٹ کے ہال میں کھڑے ہو کر دنیا کو بتا دیتے کہ امریکی صدر ڈینگ ہانک رہا ہے ۔
پارلیمنٹ کا اجلاس صرف ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں ہر حساس معاملے پر شفافیت، احتساب اور اجتماعی فہم کے ساتھ بات چیت کی جاتی ہے۔ اگر وزیر اعظم اپنی تقریروں کو پارلیمنٹ سے باہر دے کر، اس کے اندر سوالات سے بچنے کا راستہ اختیار کریں، تو یہ نہ صرف غیر جمہوری رویہ ہے بلکہ آئین کی روح کے بھی منافی ہے۔
عوام کو بھی اب یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا وہ ایک ایسے نظام کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں جہاں منتخب نمائندے صرف ہاں میں ہاں ملانے کے لیے ہوں، اور اصل فیصلے ایک فرد واحد کی مرضی سے ہوں؟ یا پھر وہ ایک ایسی جمہوریت چاہتے ہیں جہاں ہر فیصلہ، ہر بیان، اور ہر قدم عوام کے سامنے ہو اور مکمل جواب دہی کے ساتھ ہو۔











