انقرہ(ہ س)۔اقوام متحدہ کی بے گھر کر دیے گئے فلسطینیوں کے لیے قائم کی گئی ایجنسی ‘انروا’ ترکیہ میں اپنا دفتر کھولے گی۔ دفتر دارالحکومت انقرہ میں کھولا جائے گا۔یہ بات ہفتے کے روز صدر ترکیہ طیب ایردوآن نے او آئی سی اجلاس سے خطاب کے دوران بتائی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر مسلم ممالک سے اپیل کی کہ وہ ‘ انروا’ کے لیے زیادہ سے زیادہ امداد کا سامان پیدا کریں۔یاد رہے اقوام متحدہ کے اس ادارے پر اسرائیل نے غزہ جنگ کے تناظر میں پابندی لگا رکھی ہے کہ یہ جنگ زدہ اہل عزہ کی مدد نہ کر سکے۔ اسرائیل کی طرف سے یہ پابندی پچھلے سال لگائی گئی تھی۔اسرائیل نے اس امدادی اور ریلف کے ادارے پر الزام لگایا تھا کہ اس کے کارکن سات اکتوبر کے حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ تاہم اقوام متحدہ کی تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے اس الزام کے حوالے سے شواہد پیش نہیں کیے ہیں۔غزہ میں اسرائیلی فوج اقوام متحدہ کی اس ایجنسی ‘ انروا ‘ سمیت مختلف امدادی اداروں کے مراکز پر باقاعدہ ٹارگیٹڈ بمباری کر کے انہیں تباہ بھی کر چکی ہے۔ ترکیہ نے اسرائیل کی’ انروا ‘ کے خلاف ان کارروائیوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے اقدام کی ایک شکل قرار دیا ہے۔’ او آئی سی‘ کے اجلاس سے خطاب کے دوران صدر طیب ایردوآن نے کہا اس دفتر کے کھلنے سے ترکیہ ادارے کے لیے اپنی مدد کو مزید گہرا کرے گا۔ ‘ انروا’ کا ادارہ جو فلسطینیوں کے لیے بہت اہم کردار اور خدمات کی انجام دہی کا حامل ادارہ ہے، ہمیں چاہیے کہ اسے مفلوج نہ ہونے دیں بلکہ اسے اسرائیلی پابندی کے باوجود اس حال میں ہونا چاہیے کہ یہ فلسطینی بے گھر افراد کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے۔ اس لیے لازم ہے کہ ہماری یہ تنظیم اور اس کا ہر رکن ملک ‘ انروا’ کی مدد میں پہلے سے زیادہ سرگرم ہوجائے تاکہ اسرائیلی سازشوں اور چالوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ترک سفارتی ذریعے کے مطابق وزیر خارجہ ترکیہ خاقان فیضان اور ’انروا‘ کے سربراہ فلپ لازارینی جلد ایک معاہدے پر بھی دستخط کریں گے۔ تاکہ چیزوں کو حتمی شکل دی جاسکے۔بتایا گیا ہے کہ ترکیہ نے سال 203 سے سال 2025 کے درمیان مجموعی طور پر ‘ انروا’ کو 15 ملین ڈالر کی رقم کی فنڈنگ کی ہے۔ یہ رقم تین اقساط میں ادا کی گئی جو بالترتیب 10 ملین ڈالر ، 2 ملین ڈالر اور 3 ملین ڈالر تھیں۔کو غزہ کی ناکہ بندی کر کے امدادی سرگرمیوں سے روک دیا ہے۔ اب صرف امریکہ کے نئے قائم کیے گئے ادارے ‘ غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن’ کو امدادی کاموں کا ٹھیکہ دیا گیا ہے۔یہ امریکی ادارہ پوری طرح اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے۔ اس کے امدادی مراکز اور ان سے متصل جمع ہو کر خوراک حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے اب تک سینکڑوں فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج بمباری کر کے قتل کر چکی ہے۔اقوام متحدہ اس غزہ فاؤنڈیشن کو جانبدار اور متنازعہ ادارہ قرار دیتی ہے۔ اس لیے اقوام متحدہ غزہ فاؤنڈیشن سے تعاون سے انکار کر چکا ہے۔ اقوام متحدہ اس کے امدادی کام کے انداز کو فلسطینیوں کے لیے مہلک قرار دیتا ہے۔












