ایران میں ایک عدالت نے دو یمنی ماہی گیروں کو قید کی سزا سنائی ہے، جو تقریباً تین برسوں سے ایران کی جیلوں میں قید ہیں۔ ایک انسانی حقوق کے مرکز نے بتایا کہ ان ماہی گیروں کو ایسے حالات میں رکھا گیا جو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی اور ان کی زندگیوں کے لیے خطرہ ہیں۔
امریکی مرکز برائے انصاف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایرانی عدالت کے فیصلے کے مطابق یمنی ماہی گیروں محمود وحید اور محبوب عبدہ کو … جو دونوں عدن شہر کے رہائشی ہیں، 15 سال قید یا ہر ایک پر 1.5 کروڑ ڈالر کا بھاری جرمانہ یا یمن میں قید ایرانی قیدیوں کے بدلے میں تبادلے کی سزا سنائی گئی ہے۔”
مرکز نے اس اقدام کو سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے شہریوں کے استحصال، سیاسی بلیک میلنگ اور بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی” قرار دیا۔یمن کے وزیر خارجہ شائع الزندانی کو ارسال کردہ ایک پیغام میں، امریکی مرکز برائے انصاف نے یمنی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان دو یمنی ماہی گیروں کی فوری رہائی کے لیے سفارتی سطح پر فوری اقدامات کرے، جو اکتوبر 2022ء سے بندر عباس کی جیل میں سخت حالات میں قید ہیں۔
بیان کے مطابق یہ دونوں ماہی گیر تیل بردار بحری جہاز "ایریانا” کے عملے کا حصہ تھے، جسے ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اس وقت تحویل میں لے لیا تھا جب وہ عمانی علاقائی پانیوں سے گزر کر المخا بندرگاہ کی جانب جا رہا تھا۔مرکز کے مطابق اگرچہ عملے کے زیادہ تر افراد کو رہا کر دیا گیا، مگر ان دو ماہی گیروں کو اب بھی قید میں رکھا گیا ہے۔
مرکز نے خبردار کیا کہ ماہی گیر محمود، جو پہلے اوپن ہارٹ سرجری سے گزر چکا ہے، سنگین طبی حالت میں ہے۔ وہ اس وقت بندر عباس کی جیل میں ضروری طبی سہولیات اور ادویات سے محروم ہے، جس سے اس کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔












