واشنگٹن(ہ س)۔امریکہ کے دو دفاعی حکام نے سی این این کو کہا ہے کہ امریکی فوج نے مشرق وسطیٰ میں اپنے اثاثوں اور ساز و سامان کی حفاظت کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں کیونکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع جاری ہے۔دو عہدیداروں اور اس معاملے سے واقف ایک ذریعہ نے بتایا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے خطے میں خون کی اضافی سپلائی بھی جمع کر رکھی ہے۔ یہ کسی بھی وقت امریکی افواج پر ممکنہ حملہ ہونے کی صورت میں معیاری طریقہ کار ہے۔ایک اہلکار نے ان تبدیلیوں کو احتیاطی ہنگامی منصوبہ بندی قرار دیا اور کہا اگر امریکہ ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے میں اسرائیل کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کرتا ہے تو تہران کی خطے میں امریکی افواج اور اڈوں پر حملہ کرنے کی دھمکیوں کے تناظر میں ایسا کیا جارہا ہے۔اسرائیلی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ فوجی سازوسامان سے لدے 14 طیارے امریکہ سے آئے ہیں۔ اسرائیلی وزارت دفاع نے ایک بیان میں اطلاع دی کہ طیاروں کا سفر جاری ہے اور امریکی فوجی کارگو طیارے آچکے ہیں۔ اسرائیلی ٹیلی ویڑن نے اسرائیل پہنچنے والی امریکی فوجی امداد کی تصاویر بھی نشر کیں۔ایرانی نیوز ایجنسی ’’ تسنیم ‘‘ کے مطابق اس سے قبل ایران کے نائب وزیر خارجہ غریب آبادی نے اعلان کیا تھا کہ اگر امریکہ اسرائیل کی حمایت کے لیے مؤثر مداخلت کرنا چاہتا ہے تو تہران اپنے دفاع کے لیے اپنے ہتھیار استعمال کرنے اور جارحین کو سبق سکھانے پر مجبور ہو جائے گا۔ایرانی قومی سلامتی کونسل نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ وہ تنازع میں مداخلت کرنے والے کسی تیسرے فریق پر فوری حملہ کرے گی۔ ایک بیان میں ایرانی قومی سلامتی کونسل نے کہا کہ اگر کوئی تیسرا فریق جارحیت میں مداخلت کرتا ہے تو اسے براہ راست اور مخصوص منصوبے کے مطابق جواب دیا جائے گا۔ایرانی گارڈین کونسل نے امریکہ کو تنازع میں مداخلت کے خلاف خبردار کیا اور سرکاری ٹیلی ویڑن پر نشر ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ اگر واشنگٹن اسرائیلی حملے کی حمایت کے لیے فوجی مداخلت کرتا ہے تو ایران سخت جواب دے گا۔یہ انتباہات باخبر ذرائع کی رپورٹ کے بعد سامنے آئے ہیں کہ سینئر امریکی حکام آنے والے دنوں میں ایران کے خلاف ممکنہ حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اگلے ہفتے کے اوائل میں حملہے شروع کرنے کا امکان ہے۔ تاہم انہوں نے اشارہ کیا کہ صورتحال اب بھی بدل رہی ہے اور بلومبرگ کے مطابق بدل سکتی ہے۔ دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک عوامی اور باضابطہ طور پر اپنے موقف کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا ہے۔ کئی حالیہ مواقع پر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ مداخلت کر سکتے ہیں یا نہیں کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے اس بیان سے پوری دنیا کو کنفیوڑن اور توقعات کا سامنا ہے۔












